نظام وصیت

by Other Authors

Page 66 of 260

نظام وصیت — Page 66

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 66 فرماتا ہے يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ يَهدِی بِه كَثِيرًا (البقره: 27) کہ جو چیز ہدایت دینے والی ہوتی ہے اس کے ذریعہ بہتوں کو ٹھو کر بھی لگتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم جب بہت بڑی ہدایت لے کر آیا تو اس وقت بڑی ضلالت بھی آئی۔توریت میں قرآن کریم کی نسبت ہدایت کم تھی اس وقت ٹھو کر بھی کم تھی۔رسول کریم ﷺے چونکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے دنیا کے واسطے نبی بنا کر بھیجے گئے اور آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی نبوت کو منسوخ کر دے۔اس لئے آپ کے ذریعہ ہمیشہ کے لئے کفر کا دروازہ بھی کھول دیا گیا۔اب موسوی شریعت کا انکار کفر نہیں کیونکہ اس کا زمانہ ختم ہو گیا مگر اس کا کمال بھی ختم ہو گیا اب کوئی شخص موسوی شریعت پر چل کر روحانی کمال حاصل نہیں کر سکتا۔اس کے مقابلہ میں اگر اسلام کے ذریعہ خدا کے قرب کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھولا گیا تو اس کے ساتھ ہی کفر کا د روازہ بھی ہمیشہ کے لئے کھل گیا۔پس ہر ہدایت کے ساتھ ضلالت برابر چلتی ہے۔اور یہ دونوں پیریل لائن (PARALLEL LINE) پر متوازی چلتی ہیں۔کیونکہ جو چیز بھدی بہ کثیرا ہوگی وہ ساتھ ہی یضل بہ کثیراً بھی ہوگی۔اب اگر وصیت کا مسئلہ یضل بہ نہ ہوتا۔تو عقل تسلیم نہ کرتی کہ بھلائی کا باعث بن سکتا۔کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ جو چیز ہدایت کا باعث ہوتی ہے اس کے ساتھ ضلالت کا پہلو بھی ہوتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کی سنت بدلا نہیں کرتی۔اب دیکھو وصیت کس طرح ٹھوکر کا موجب ہوئی۔پہلے تو غیر احمد یوں کو اس سے ٹھوکر لگی انہوں نے کہا روپیہ کمانے کا ڈھنگ نکالا گیا ہے ورنہ کسی زمین میں دفن ہو کر کوئی بہشتی کیونکر ہوسکتا ہے۔یہ بھی وہی بات ہوئی جو کئی مقامات پر بہشتی دروازہ بنا کر کہی جاتی ہے کہ جو اس دروازہ میں سے گذر جائے وہ بہشتی ہو گیا۔اس طرح وصیت بہت سے لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہوئی۔کیونکہ انہوں نے اس کی حقیقت اور مغز کو نہ سمجھا۔وصیت کے قواعد پورے کرنا علامت ہوگی کہ پورا کرنے والا بہشتی ہے : وصیت کا ہرگز یہ منشاء نہ تھا کہ کوئی اس زمین میں دفن ہونے سے بہشتی ہو جائے گا۔اگر کسی کا فرکورات کے وقت لوگ اس میں دفن کر جائیں یا کسی ہندو کو دفن کر دیا جائے۔تو کیا وہ اس لئے جنتی ہو جائے گا