نظام وصیت — Page 64
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 64 وصیت کرے۔ہاں جو اتنا حصہ مجبوراً نہ دے سکے وہ اس سے کم دے دے۔پس اصل وصیت ا حصہ کا نام ہے ہاں جو یہ نہ دے وہ اس سے کم ۱۰/ ا حصہ تک دے سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر ایک شخص اپنی موت کا نظارہ اپنی آنکھوں کے سامنے لائے اور اپنی حالت پر نظر کرے تو اسے معلوم ہو کہ مجھ سے بے شمار غلطیاں اور کمزوریاں سرزد ہو چکی ہیں۔اب مرنے کے وقت تو مجھے خدا تعالیٰ سے صلح کر لینی چاہیے۔یہ خیال کر کے خدا تعالیٰ کی راہ میں سب کچھ دے دینا بھی اس کے لئے دوبھر نہیں ہوسکتا۔دیکھو جو شخص خود جائیداد پیدا کرتا ہے اسے یہ بھی امید رکھنی چاہیے کہ اس کی اولا د بھی ایسی ہی ہوگی کہ جائیداد بڑھائے گی۔جو شخص اس بات سے ڈرتا ہے کہ اگر میں وصیت میں جائیداد دے دوں گا تو اولا د کیا کھائے گی۔وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کی اولاد نالائق ہوگی۔ایک شخص جس کے پاس کچھ نہ تھا اس نے کوشش کر کے کئی ہزار کی جائیداد پیدا کر لیں تو اسے امید رکھنی چاہیے کہ اس کی اولا داس سے بھی بڑھ کر ترقی کرے گی۔اور اس رنگ میں اولاد کی تربیت کرنی چاہیے کہ وہ دنیا میں ترقی کر سکے۔ورنہ جو اولاد کی اسطرح تربیت نہیں کرتا اور یہ سمجھتا ہے جو کچھ میں نے کمایا ہے اسی پر اولاد کا گزارہ ہو گا وہ اپنی اولاد کو نالائق سمجھتا ہے۔اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔انا عند ظن عبدی بی ( بخاری کتاب التوحيد باب قول الله ويحذركم الله نفسه ) بندہ میرے متعلق جیسا خیال کرتا ہے میں ویسا ہی کر دیتا ہوں اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ ہماری اولاد دکھی اور نالائق ہوگی ہم جو دے جائیں گے اسی پر اس کا گزارہ ہوگا اسے بڑھا نہیں سکے گی تو خدا تعالیٰ ایسی اولاد سے یہی معاملہ کرے گا کہ اسے نالائق بنادے گا۔لیکن اگر یہ خیال ہو کہ ہماری اولا دہم سے بھی زیادہ ہوشیار اور قابل ہوگی اور دین کی خدمت کرنے میں ہم سے بھی بڑھ جائے گی تو میں سمجھتا ہوں ایسی اولا دکو خدا تعالیٰ ضائع نہیں کرے گا۔کسی خدا کے بندہ کا قول ہے کہ کسی بچے مومن کی سات پشتوں تک کسی کو سوال کرتے نہیں دیکھا جائے گا۔پس وصیت کرتے ہوئے احباب کو یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے جو اعلیٰ حصہ مقرر کیا ہے وہ ۱/۳ ہے اور ہر مومن کو کوشش کرنی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ حصہ کی وصیت کرے۔ہاں اگر اپنی