نظام وصیت — Page 63
63 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ جماعت کو وصیت کی اہمیت بتائی جائے (فرموده 7 مئی 1926) وصایا کی آمد غیر معمولی آمد ہے۔ایک آدمی فوت ہو جاتا ہے۔جس کی دس لاکھ کی جائیداد ہوتی ہے۔اس کی جائیداد سے اگر ایک لاکھ روپیہ آجائے۔تو یہ غیر معمولی آمد ہوگی۔۔۔۔جماعت کو وصیت کی اہمیت بتائی جائے اور بتایا جائے کہ یہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ طریق ہے۔تو میں سمجھتا ہوں کہ ہزاروں آدمی جنہیں تاحال اس طرف توجہ نہیں ہوئی وصیت کے ذریعہ اپنے ایمان کامل کر کے دکھائیں گے اور دوسرے اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وصیت کی تحریک خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اور اس کے ساتھ بہت سے انعامات وابستہ ہیں۔ابھی تک جنہوں نے وصیت نہ کی ہو وہ کر کے اپنے ایمان کے کامل ہونے کا ثبوت دیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے جو شخص وصیت نہیں کرتا مجھے اس کے ایمان میں شبہ ہے۔پس وصیت معیار ہے ایمان کے کامل ہونے کا۔(خطبات محمود دجلد 10 صفحہ 167,166 ) | دسویں حصہ کی وصیت اقل ترین معیار ہے اصل وصیت ۱/۳ کا نام ہے (فرموده 7 مئی 1926) دسویں حصہ کی وصیت اقل ترین معیار ہے یعنی یہ تھوڑے سے تھوڑا حصہ ہے جو وصیت میں دیا جاسکتا ہے۔مگر مومن کو یہ نہیں چاہیے کہ چھوٹے سے چھوٹے درجہ کا مؤمن بنے کی کوشش کرے بلکہ بڑے سے بڑے درجہ کا مومن بننا چاہیے۔یہ درست ہے کہ رشتہ داروں اور لواحقین کو مدنظر رکھ کر کہا گیا ہے که ۳ ا حصہ سے زیادہ وصیت میں نہ دے۔لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ دسویں حصہ سے زیادہ وصیت نہ دے۔مگر دیکھا گیا ہے کہ اکثر دوست۱/۱۰ حصہ کی وصیت کرنے پر کفایت کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید ان کا خیال ہو کہ وصیت کا مفہوم دسویں حصہ کی وصیت کرنا ہی ہے۔حالانکہ یہ ادنی مقدار بیان کی گئی ہے اور مؤمن کے لئے یہی بات مناسب ہے کہ جس قدر زیادہ دے سکے دے۔ایمان اور مؤمن کی شان کو مدنظر رکھتے ہوئے تو یہی ہونا چاہیے۔جو وصیت کرے۱/۳حصہ کی