نظام وصیت

by Other Authors

Page 62 of 260

نظام وصیت — Page 62

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 62 اور ایک داروغہ اس سے سارا دن کام لے جبکہ وہ تندرست ہے تو کوئی یہ اعتراض نہیں کر سکتا کہ دیکھو جی مالک تو تھوڑا سا کام لے کر چھوڑ دیتا تھا لیکن داروغہ اس سے سارا دن کام لیتا ہے۔اس کا یہ جواب ہے کہ اس وقت وہ بیمار تھا اور زیادہ کام نہیں کر سکتا تھا لیکن اس وقت تندرست ہے اور سارا دن کام کرنے کے قابل ہے یہی حال ہماری جماعت کا ہے کہ ابتداء میں وہ ایسی قربانیاں نہیں کر سکتی تھی جیسی اب کر سکتی ہے۔اور ایک زمانہ آرہا ہے کہ اس میں جو قربانیاں ہماری جماعت کر سکے گی آج نہیں کر سکتی۔پس جن دوستوں نے یہ خیال کیا ہے کہ میں حضرت مسیح موعود سے زیادہ خدمت دین کا شوق رکھتا ہوں یا میں نے آپ کی مقرر کی ہوئی حد سے تجاوز کیا ہے یا میں نے چندوں اور وصیتوں کی شرح میں اپنی طرف سے اضافہ کر دیا ہے۔انہوں نے غلطی کی ہے جو اس قسم کے خیال کو دل میں جگہ دی ہے ایسے خیالات ترقی کے راستے میں روک ہو جاتے ہیں پس اگر میں اللہ تعالیٰ کی اس منشاء کو دیکھتے ہوئے کہ ان سلسلوں کی ترقی ان کی قربانیوں کی طرح آہستہ آہستہ ہوتی ہے جو عیسوی مماثلت رکھتے ہیں اس تدریجی ترقی کے ساتھ ساتھ قدم نہ بڑھاؤں تو یہ ایک خلاف قدرت فعل ہوگا۔اور ہر وہ فعل جو خلاف قدرت ہو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے۔اور اس کے کرنے سے کوئی شخص خدا کو خوش نہیں کر سکتا۔حضرت صاحب نے جو کچھ کیا وہ تمہاری ابتدائی حالت کو مد نظر رکھ کر کیا مگر اب تمہاری ابتداء نہیں۔اب خالی ایمان ہی نہیں بلکہ دس یا ہیں یا تمہیں سال کی مجموعی طاقت بھی ساتھ ہے اس لئے آج جس قربانی کی امید تم سے کی جاسکتی ہے اس وقت نہیں کی جاسکتی تھی۔اور جیسا کہ میں نے بتایا جو مثیل موسی نبی تھے ان میں پہلے تزکیہ اور طہارت اور بعد میں قربانیاں ہوتی ہیں۔اور جو مثیل مسیح ہیں ان میں تزکیہ قربانیوں کے بعد ہوتا ہے یہی اصول یہاں بھی جاری ہے کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ حضرت صاحب مثیل مسیح ہیں۔پس ہمارا تزکیہ قربانیوں کے بعد ہے۔جوں جوں ہم قربانیاں کرتے چلے جائیں گے توں توں ہمیں تزکیہ اور طہارت حاصل ہوتی جائے گی۔اور جتنی دیر ہم قربانیوں میں لگائیں گے اتنی دیر ہمیں تزکیہ حاصل کرنے میں ہوگی۔پس اگر تز کیہ چاہتے ہو تو قربانی میں جلدی کرو۔خطبات محمود جلد 2 صفحہ 98 تا 102 )