نظام وصیت — Page 40
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 40 اور چند نسلوں میں انفرادیت کی روح کو تباہ کئے بغیر قومی فنڈ میں دنیا کی تمام جائیدادیں منتقل ہو جائیں۔(3) عالمگیر اخوت کو بڑھانے والا نظام : نظام نو۔انوارالعلوم جلد 16 صفحہ 593,592 ) پھر یہ نظام ملکی نہ ہوگا بلکہ بوجہ مذہبی ہونے کے بین الاقوامی ہوگا۔انگلستان کے سوشلسٹ وہی نظام پسند کرتے ہیں جس کا اثر انگلستان تک محدود ہو، روس کے بالشویک وہی نظام پسند کرتے ہیں جس کا اثر روس تک محدود ہومگر احمدیت ایک مذہب ہے وہ اس نئے نظام کی طرف روس کو بھی بلاتی ہے ، وہ جرمنی کو بھی بلاتی ہے ، وہ انگلستان کو بھی بلاتی ہے، وہ امریکہ کو بھی بلاتی ہے، وہ ہالینڈ کو بھی بلاتی ہے، وہ چین اور جاپان کو بھی بلاتی ہے پس جو روپیہ احمدیت کے ذریعہ اکٹھا ہوگا وہ کسی ایک ملک پر خرچ نہیں کیا جائے گا بلکہ ساری دنیا کے غریبوں کے لئے خرچ کیا جائے گا، وہ ہندوستان کے غرباء کے بھی کام آئے گا، وہ چین کے غرباء کے بھی کام آئے گا، وہ جاپان کے غرباء کے بھی کام آئے گا، وہ افریقہ کے غرباء کے بھی کام آئے گا، وہ عرب کے غرباء کے بھی کام آئے گا ، وہ انگلستان، امریکہ، اٹلی ، جرمنی اور روس کے غرباء کے بھی کام آئے گا۔غرض وہ نظام جو دنیوی ہیں وہ قومیت کے جذبہ کو بڑھاتے ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے وہ نظام پیش کیا ہے جو عالمگیر اخوت کو بڑھانے والا ہے۔پھر روس میں تو روس کا باشندہ روس کے لئے جبراً اپنی جائیداد دیتا ہے لیکن وصیت کے نظام کے ماتحت ہندوستان کا باشندہ اپنی مرضی سے سب دنیا کے لئے دیتا ہے، مصر کا باشندہ اپنی مرضی سے اپنی جائیدا دسب دنیا کے لئے دیتا ہے، شام کا باشندہ اپنی مرضی سے اپنی جائیداد ساری دنیا کے لئے دیتا ہے یہ کتنا نمایاں فرق ہے اسلامی نظامِ نو اور دنیوی نظامِ نو میں۔( نظام نو۔انوار العلوم جلد 16 صفحہ (593) (4) جسکی بنیاد جبر پر نہیں بلکه پیار محبت پر ہے : پھر روسی نظام چونکہ جبر سے کام لیتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے مالدار روس سے نکل کر اس کے