نظام وصیت

by Other Authors

Page 16 of 260

نظام وصیت — Page 16

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 16 غلبہ دے گا۔لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ متبعین میں سے ہر شخص محض میرے ہاتھ پر بیعت کرنے سے داخل نہیں ہو سکتا جب تک اپنے اندر وہ اتباع کی پوری کیفیت پیدا نہیں کرتا متبعین میں داخل نہیں ہوسکتا۔پوری پوری پیروی جب تک نہیں کرتا۔ایسی پیروی کہ گویا اطاعت میں فنا ہو جاوے اور نقش قدم پر چلے اس وقت تک اتباع کا لفظ صادق نہیں آتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسی جماعت میرے لیے مقدر کی ہے جو میری اطاعت میں فنا ہو اور پورے طور پر میری اتباع کرنے والی ہو۔اس سے مجھے تسلی ملتی اور میرا غم امید سے بدل جاتا ہے۔مجھے اس بات کا غم نہیں کہ ایسی جماعت نہ ہوگی۔نہیں جماعت تو ضرور ہوگی اس لیے کہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ ایسے لوگ ضرور ہوں گے۔مگر غم اس بات کا ہے کہ ابھی جماعت کچی ہے اور پیغام موت آ رہا ہے۔گویا جماعت کی حالت اس بچہ کی سی ہے جس نے ابھی دو چار روز دودھ پیا ہو اور اس کی ماں مر جائے۔بہر حال خدا تعالیٰ کے وعدوں پر میری نظر ہے اور وہ خدا ہی ہے جو میری تسکین اور تسلی کا باعث ہے۔ایسی حالت میں کہ جماعت کمزور اور بہت کچھ تربیت کی محتاج ہے۔یہ ضروری امر ہے کہ میں تمہیں توجہ دلاؤں کہ تم خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرو۔اور اسی کو مقدم کرلو اور اپنے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک جماعت کو ایک نمونہ سمجھوان کے نقش قدم پر چلو۔( ملفوظات۔جلد 4 صفحہ 594 تا 597 ) || اسلام کی حالت زار اور نظام وضیت کی ضرورت اور غرض اسلام سخت اور خطر ناک ضعف کی حالت میں ہے۔اس پر یہی آفت اور مصیبت نہیں کہ باہر والے اس پر حملے کر رہے ہیں اگر چہ یہ بالکل سچ ہے کہ مخالف سب کے سب مل کر ایک ہی کمان سے تیر ماررہے ہیں اور جہاں تک اُن سے ہو سکتا ہے وہ اس کو مٹا دینے کی سعی اور فکر کرتے ہیں۔لیکن اس مصیبت کے علاوہ بڑی بھاری مصیبت یہ ہے کہ اندرونی غلطیوں نے اسلام کے درخشاں چہرہ پر ایک نہایت ہی تاریک حجاب ڈال دیا ہے اور سب سے بڑی آفت یہ ہے کہ اس میں روحانیت نہیں رہی۔