نظام وصیت — Page 13
13 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ ہستی کا ثبوت مجھے دیا ہے میرے پاس الفاظ نہیں جن میں میں اُسے ظاہر کر سکوں۔وہی خدا ہے جس نے براہین کے زمانہ میں ان تمام امور کی جو آج تم دیکھ رہے ہو خبر دی۔اُن ہندوؤں سے جو ہمارے جدی دشمن ہیں پوچھ لو کہ اس زمانہ میں اس جلوہ قدرت کا کہاں نشان تھا جب وہ ساری باتیں پوری ہو چکی ہیں پھر جو باتیں آج وہ بتاتا ہے وہ کیونکر پوری نہ ہوں گی؟ اس خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ عنقریب خطر ناک وقت آنے والا ہے۔زلازل آئیں گے اور موتوں کے دروازے کھل جاویں گے۔پس اس سے پہلے کہ وہ خطرناک گھڑی آجاوے اور موت اپنا منہ کھول کر حملہ شروع کر دے تم نیکی کرو اور خدا تعالیٰ کو خوش کر لو۔میں یہ بھی تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس زمانہ کی تمام نبیوں نے خبر دی ہے۔یہ آخری ہزار کا زمانہ آ گیا ہے۔قرآن شریف میں آیا ہے و اِن مِن قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيداً كَانَ ذلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا (بنی اسرائیل: 59) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جب قیامت قریب آجائے گی تو عام طور پر موت کا دروازہ کھولا جاوے گا۔طاعون کے متعلق شیعہ کی کتابوں میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ ایسی طاعون ہوگی کہ جہاں دس آدمی ہوں گے ان میں سے سات مر جاویں گے اور حقیقت میں یہ ایسی بلا ہے کہ خاندانوں کے خاندان اس سے مٹ گئے اور بے نام و نشان ہو گئے۔کون جانتا ہے کہ کل کیا ہوگا ؟ اس قدر سردی کی شدت میں طاعون ترقی کر رہی ہے۔امرتسر میں زور شور ہے۔ایسی حالت میں کوئی کیا امید کر سکتا ہے۔جبکہ موت کا بازار گرم ہے تو کیا املاک اور جائیداد میں سر پر اٹھا کر لے جاؤ گے؟ ہرگز نہیں۔پھر اگران نشانات کو دیکھ کر بھی تبدیلی نہیں کرتے تو کیونکر کہہ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ پر ایمان ہے۔( ملفوظات۔جلد 4 صفحہ 667 ، 668 | اشتہار الوصیت کی غرض " تم دین کو دنیا پر مقدم کر لو یقیناً یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی مومن اور بیعت میں داخل ہوتا ہے جو دین کو دنیا پر مقدم کرے جیسا کہ وہ بیعت کرتے وقت کہتا ہے۔اگر دنیا کی اغراض کو مقدم کرتا ہے تو وہ اس اقرار کو