نظام وصیت — Page 227
227 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ ہوا تھا۔اور یہ جو وصیت کا نظام آپ نے جاری فرمایا تھا یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق تھا۔اور اس نظام میں شامل ہونے والوں کے لئے آپ نے بیشمار دعائیں کی ہیں۔۔۔۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دسمبر 2005ء میں حضرت مسیح موعود کے کو جاری ہوئے 100 سال پورے ہوگئے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا اور 2004 ء کے جلسہ UK میں میں نے تحریک کی تھی کہ 2005ء میں 100 سال پورے ہوں گے تو کم از کم 50 ہزار موصیان ہونے چاہئیں۔تو جیسا کہ میں جلسہ سالانہ قادیان میں اعلان کر چکا ہوں کہ اللہ کے فضل سے یہ تعداد پوری ہو چکی ہے بلکہ اس تعداد سے بہت آگے جاچکے ہیں۔اب تو جماعتیں اپنا اگلا ٹارگٹ پورا کرنے کی کوشش میں ہیں۔لیکن یہاں آپ لوگوں کی دلچسپی کے لئے میں جو بات بتانے لگا ہوں وہ یہ ہے کہ یہاں کی جو تاریخ مرتب ہوئی ہے اس کے مطابق حضرت صوفی صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ بیرون ہندوستان میں شامل ہونے والے اولین موصی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب وصیت کا اعلان فرمایا تو اس کے تین مہینے کے بعد ہی انہوں نے وصیت کر دی تھی اور اس طرح آپ کی وصیت مارچ 1906ء کی ہے۔پھر اس لحاظ سے اس ملک میں یعنی اس براعظم میں کے پہلے پھل کو بھی 100 سال ہو گئے ہیں۔یہ اپریل کا مہینہ ہے۔صرف ایک مہینہ ہی اوپر ہوا ہے۔حضرت صوفی صاحب نے یقینا ایک تڑپ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس دروازے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔اور یقینا یہ کامیاب کوشش تھی، کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں انجام بخیر ہونے کی خبر الہاما دی تھی۔اور آپ یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے بھی وارث بنے جو آپ نے اس نظام میں شامل ہونے والوں کے لئے کی ہیں اور بے شمار دعائیں ہیں جو آپ نے کی ہیں کہ اللہ تعالیٰ تقوی میں ترقی دے، ایمان میں ترقی دے، نفاق سے پاک کرے تو یہ صرف اتفاق نہیں ہے۔اب میں سمجھتا ہوں 100 سال کے بعد بیرون ہندوستان کے پہلے موصی کے ملک میں یہ میرا دورہ ہے اور اس سے پہلے میں وصیت کرنے کی تحریک بھی کر چکا ہوں۔یہاں آنے سے پہلے مجھے علم بھی نہیں تھا کہ یہاں بھی حضرت مسیح موعود کے کا پہلا پھل آج سے 100 سال پہلے لگ