نظام وصیت

by Other Authors

Page 228 of 260

نظام وصیت — Page 228

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 228 چکا ہے۔حضرت مسیح موعود کے زمانے میں یہ پھل لگا اور آج سے پورے 100 سال پہلے ایک ایسا کامیاب پھل تھا جس کی اللہ تعالیٰ نے تسلی بھی کروائی کہ تمہارا انجام بھی بخیر ہوگا۔تو کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ بیرون پاکستان اور ہندوستان کی طرف توجہ اس ملک کے احمدیوں کو اس لحاظ سے بھی خاص طور پر کرنی چاہیئے کہ وہ ایک شخص تھا یا چند ایک اشخاص تھے جو یہاں رہتے تھے ان میں سے ایک نے لبیک کہتے ہوئے فوری طور پر وصیت کے نظام میں شمولیت اختیار کی۔آج آپ کی تعداد سینکڑوں، ہزاروں میں ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل بھی بہت زیادہ ہیں۔اور 100 سال بعد اور تقریباً اس تاریخ کو 100 سال بھی پورے ہو چکے ہیں اس لئے اس لحاظ سے آپ لوگوں کو جو کمانے والے لوگ ہیں جو اچھے حالات میں رہنے والے لوگ ہیں ان کو اس نظام میں شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اور سب سے پہلے عہدیداران اپنا جائزہ لیں اور امیر صاحب بھی اس بات کا جائزہ لیں کہ 100 فیصد جماعتی عہدیداران اس نظام میں شامل ہوں، چاہے وہ مرکزی عہد یداران ہوں یا مرکزی ذیلی تنظیموں کے عہدیداران ہوں یا مقامی جماعتوں کے عہد یداران ہوں یا مقامی ذیلی تنظیموں کے عہدیداران ہوں۔گو کہ اللہ کے فضل سے مجھے بتایا گیا کہ یہاں موصیان کی تعداد کافی اچھی ہے لیکن حضرت صوفی صاحب کے حالات پڑھ کر جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ یہاں کا ہر احمدی موصی ہو اور تقویٰ پر قدم مارنے والا ہو۔ید ایسا با برکت نظام ہے جو دلوں کو پاک کرنے والا نظام ہے۔اس میں شامل ہو کے انسان اپنے اندر تبدیلیاں محسوس کرتا ہے۔اب سالو من آئی لینڈز (Soloman Islands) میں وہاں کے ایک نئے احمدی ہیں، انہوں نے بھی وصیت کی ہے تو جس طرح نئے آنے والے اخلاص و وفا میں بڑھ رہے ہیں اور انشاء اللہ بڑھیں گے ان لوگوں کو دیکھ کر آپ لوگوں کو بھی فکر ہونی چاہیئے کہ کہیں یہ پرانے احمدیوں کو پیچھے نہ چھوڑ جائیں۔الفضل انٹر نیشنل 5 مئی 2006 ء صفحہ 8,7 )