نظام وصیت

by Other Authors

Page 210 of 260

نظام وصیت — Page 210

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 210 اس میں حصہ لیں لیکن وہ میں شامل ہونے سے محروم ہیں۔ان میں سے بھی کئی لوگوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اب اس نظام میں شامل ہوں گے۔ایسے صاحب حیثیت لوگوں کو ایسے احمدیوں کو تو سب سے پہلے چھلانگ مار کر آگے آنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل فرمائے ہیں۔ان کے شکرانے کے طور پر ہم اس نظام میں شامل ہوں تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دروازے مزید کھلیں۔اللہ تعالیٰ نے جو ان پر نعمتیں نازل فرمائی ہیں ان کا اظہار ہونا چاہئے۔یہ بھی ذہنوں اور مالوں کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس طرح بعض مسلمان کرتے ہیں کہ غلط طریق سے مال کمایا اور پھر بازار میں ٹھنڈے پانی کی سبیل لگادی یا برف ڈلوادی یا مسجد بنوادی یا اس کا کچھ حصہ بنوادیا۔یا حج کر آئے اور سمجھ لیا کہ ہمارے ناجائز ذریعے سے کمائے ہوئے مال پاک ہو گئے ہیں۔ایسے لوگ تو دین کے ساتھ مذاق کرنے والے ہوتے ہیں۔بلکہ یہاں پاک کرنے کے ذریعے سے یہ مطلب ہے کہ پاک ذرائع سے کمائی ہوئی جو دولت ہے اس کو جب پاک مقصد کے لئے خرچ کیا جائے گا تو اس سے تمہارے اندر جہاں روحانی تبدیلیاں پیدا ہوں گی وہاں تمہارے اموال ونفوس میں بے انتہا برکت پڑے گی۔جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کی ہے رسالہ الوصیت میں اور تین دفعہ یہ دعا کی ہے کہ ایسے لوگوں کو جو اس نظام میں شامل ہوں نیک اور پاک لوگوں کی جماعت بنادے۔نظام وصيت كواتنا فعال ہوجانا چاہیئے کہ سو سال بعد تقویٰ کے معیار نہ صرف قائم رہیں بلکه بڑه بڑھیں مختصراً آج میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ جہاں جلسے کے بابرکت اختتام پر آپ نے شکرانے کا اظہار کیا اور شکرانے کا اظہار کر رہے ہیں وہاں اس شکرانے کا عملی اظہار بھی کریں کیونکہ جہاں اس نظام میں شامل ہونے والے تقویٰ میں ترقی کریں گے وہاں جماعت کی مضبوطی کا باعث بھی بنیں گے۔جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود نے رسالہ الوصیت میں دو باتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ ایک تو یہ ہے کہ آپ کی وفات کے بعد نظام خلافت کا اجراء اور دوسرے اپنی وفات پر آپ کو یہ فکر پیدا ہونا کہ