نظام وصیت

by Other Authors

Page 207 of 260

نظام وصیت — Page 207

207 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ کر رہی ہے۔وہ کیا کرتے ہیں، رپورٹس دیں گے تو پتہ لگے گا۔لیکن میری یہ خواہش ہے کہ 2008ء میں جو خلافت کو قائم ہوئے انشاء اللہ تعالیٰ سو سال ہو جائیں گے تو دنیا کے ہر ملک میں، ہر جماعت میں جو کمانے والے افراد ہیں، جو چندہ دہند ہیں اُن میں سے کم از کم پچاس فیصد تو ایسے ہوں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اس عظیم الشان نظام میں شامل ہو چکے ہوں۔اور روحانیت کو بڑھانے کے اور قربانیوں کے یہ اعلیٰ معیار قائم کرنے والے بن چکے ہوں۔اور یہ بھی جماعت کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے حضور ایک حقیر سا نذرانہ ہوگا جو جماعت خلافت کے سو سال پورے ہونے پر شکرانے کے طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر رہی ہوگی۔اور اس میں جیسا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے ایسے لوگ شامل ہونے چاہئیں جو انجام بالخیر کی فکر کرنے والے اور عبادات بجالانے والے ہیں۔خدام الاحمدیہ، انصار الله صف دوم اور لجنہ اماء اللہ کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے : جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے اس لئے خدام الاحمدیہ، انصار اللہ صف دوم جو ہے اور لجنہ اماءاللہ کو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے۔کیونکہ ستر پچھتر سال کی عمر میں پہنچ کر جب قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے ہوں تو اُس وقت وصیت تو بچا کھچا ہی ہے جو پیش کیا جاتا ہے۔امید ہے کہ احمدی نو جوان بھی اور خواتین بھی اس میں بھر پور کوشش کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کو خاص طور پر میں کہہ رہا ہوں کہ اپنے ساتھ اپنے خاوندوں اور بچوں کو بھی اس عظیم انقلابی نظام میں شامل کرنے کی کوشش کریں۔دنیاوی لحاظ سے بھی اگر اس نظام کی اہمیت کا اندازہ لگانا ہے تو آج سے ساٹھ سال پہلے حضرت مصلح موعود ( اللہ آپ سے راضی ہو) نے ایک تقریر فرمائی جلسے کے موقع پر نظام نو کے نام سے چھپی ہوئی کتاب ہے۔اُسے پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہو کہ آج کل دنیا کے ازموں اور مختلف نظاموں کے جو نعرے لگائے جارہے ہیں وہ سب کھو کھلے ہیں۔اور اگر اس زمانے میں کوئی انقلابی نظام ہے جو دنیا کی تسکین کا باعث بن سکتا ہے، جو روح کی تسکین کا باعث بن سکتا ہے، جو انسانیت کی خدمت کرنے کا دعویٰ حقیقت میں کر سکتا ہے تو وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پیش کردہ ہی ہے۔