نظام وصیت

by Other Authors

Page 208 of 260

نظام وصیت — Page 208

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 208 اس نظام کی قدر نہ کرنے والوں کو حضرت مسیح موعود کا انذار: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس نظام کی قدر نہ کرنے والوں کو انذار بھی بہت فرمایا ہے، ڈرایا بھی بہت ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ: بلا شبہ اُس نے ارادہ کیا ہے کہ اس انتظام سے منافق اور مومن میں تمیز کرے۔اور ہم خود محسوس کرتے ہیں کہ جو لوگ اس الہی انتظام پر اطلاع پا کر بلا توقف اس فکر میں پڑتے ہیں کہ دسواں حصہ گل جائیداد کا خدا کی راہ میں دیں بلکہ اس سے زیادہ اپنا جوش دکھلاتے ہیں وہ اپنی ایمانداری پر مہر لگا دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الم أَحَسِبَ الناسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُو المَـــا وَهُمْ لَا يفتتون (العنكبوت : 2-3 ) کیا لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ میں اسی قدر پر راضی ہو جاؤں کہ وہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے اور ابھی اُن کا امتحان نہ کیا جائے؟ اور یہ امتحان تو کچھ بھی چیز نہیں۔صحابہ کا امتحان جانوں کے مطالبہ پر کیا گیا اور انہوں نے اپنے سر خدا کی راہ میں دئے۔پھر ایسا گمان کہ کیوں یونہی عام اجازت ہر ایک کو نہ دی جائے کہ وہ اس قبرستان میں دفن کیا جائے کس قدر دور از حقیقت ہے۔اگر یہی روا ہو تو خدا تعالیٰ نے ہر ایک زمانہ میں امتحان کی کیوں بنیاد ڈالی؟ وہ ہر ایک زمانہ میں چاہتا 66 رہا ہے کہ خبیث اور طیب میں فرق کر کے دکھلاوے اس لئے اب بھی اُس نے ایسا ہی کیا۔“ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 328,327) فرمایا : یہ بھی یادر ہے کہ بلاؤں کے دن نزدیک ہیں اور ایک سخت زلزلہ جوزمین کو تہ و بالا کر دے گا قریب ہے۔پس وہ جو معائنہ عذاب سے پہلے اپنا تارک الدنیا ہونا ثابت کر دیں گے اور نیز یہ بھی ثابت کردیں گے کہ کس طرح انہوں نے میرے حکم کی تعمیل کی خدا کے نزدیک حقیقی مومن وہی ہیں اور اُس کے دفتر میں سابقین اولین لکھے جائیں گے۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ زمانہ قریب ہے کہ ایک منافق جس نے دنیا سے محبت کر کے اس حکم کو ٹال دیا ہے وہ عذاب کے وقت آہ مار کر کہے گا کہ کاش میں تمام جائیداد کیا منقولہ اور کیا غیر منقولہ خدا کی راہ میں دے دیتا اور اس عذاب سے بیچ جاتا۔یادرکھو! کہ اس عذاب کے معائنہ کے بعد ایمان بے سود ہوگا اور صدقہ خیرات محض عبث۔دیکھو! میں بہت قریب عذاب کی تمہیں خبر دیتا ہوں۔اپنے لئے وہ زاد جلد تر جمع کرو کہ کام آوے۔