نظام وصیت

by Other Authors

Page 193 of 260

نظام وصیت — Page 193

193 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ ایک کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو خدا کا کلام ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ایک ہی طرح کا سلوک کیا جائے۔اگر کسی کو ٹھوکر لگتی ہے تو میں ذمہ دار نہیں ہوں۔وہ پہلا نفس کا کیٹر ا ذمہ دار ہے جس نے اس کی قربانیوں کو تباہ کیا اور اس نے اس وقت اس کی فکر نہیں کی۔اگر کسی کی اولاد کوٹھوکر لگتی ہے تو میں ہرگز ذمہ دار نہیں ہوں کیونکہ ذمہ دار خدا کا کلام ہے جس کے تابع میں ایک ادنی غلام سے بھی کم حیثیت رکھتا ہوں اور نظام جماعت کی بھی اس کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں ، یہ بے اختیار لوگ ہیں۔اس لئے خدا کا کلام جاری ہوگا اور لازما جاری ہوگا۔وہ لوگ جو اپنے نفس کی بڑائی یا اپنی عظمتوں کی بڑائی لئے پھرتے ہیں ، دنیا کی عظمتوں کی بڑائی لئے پھرتے ہیں وہ دھو کہ میں نہ رہیں۔یہ اس لئے کیا جا رہا ہے تا کہ آپ بچیں۔آپ کو نقصان پہنچانے کے لئے نہیں کیا جارہا۔اس لئے کیا جا رہا ہے دنیا میں آپ کو پتا چل جائے کہ آپ کیا کر رہے ہیں بجائے اس کے کہ مرنے کے بعد یہ آوازیں بلند ہوں کہ آج تو سودوں کا دن نہیں رہا۔آج تو کوئی شفاعت کام نہیں آئے گی۔آج تو کسی قسم کی دوستی تمہیں فائدہ نہیں پہنچائے گی۔اس لئے یہ کوئی نعوذ باللہ من ذالك دشمنی کی باتیں نہیں ہور ہیں یا سختی کی باتیں نہیں ہور ہیں۔اس سے بہتر آپ کے حق میں یعنی احباب جماعت کے حق میں اور کوئی اچھا طریق نظام جماعت اختیار نہیں کر سکتا، اسی میں فائدہ ہے۔اس لئے بجائے اس کے کہ نظام کی نظر بعض خامیوں پر پڑے اور پھر وہ اس کو پکڑے۔اپنے دل کا محاسبہ کریں، اپنے حالات کا محاسبہ کریں اور اپنی قربانی کو تقوی کے کم سے کم معیار کے اوپر تو لے کر آئیں۔آگے بہت بلند معیار ہیں۔آگے بہت ترقی کی منازل ہیں۔تقویٰ کے اندر بار یک در باریک راہیں ہیں ان کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں معمولی بھی خدا کے نزدیک اتنا بڑھتا ہے کہ حیرت میں انسان مبتلا ہو جاتا ہے۔لیکن ادنی معیار پر پورا اتر نا تو بہر حال ضروری ہے۔اس مضمون کے اور بہت سے پہلو ہیں مال اور تقویٰ کے تعلق میں جو بیان ہونے والے ہیں باقی انشاء اللہ میں بعد میں بیان کروں گا۔اس وقت ایک ضروری معاملہ کے متعلق جماعت کی سامنے بعض باتیں رکھنی چاہتا ہوں۔قادیان سے