نظام وصیت

by Other Authors

Page 187 of 260

نظام وصیت — Page 187

187 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ پھر اسی طرح اور بھی بہت سے ایسے معاملات سامنے آنے لگے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ قانون کے لفظی پیمانے تو بھرے جا رہے ہیں مگر ان میں روح وصیت موجود نہیں ہے۔ایک والدین ہیں مثلاً وہ ریٹائر ہو گئے۔اگر بچوں کو اعلی تعلیم دی یار یٹائر ڈ ہو گئے یا پینشن کمیوٹ کرالی اور اس کے بعد ان کے پاس براہ راست کوئی آمد نہ رہی ، سب کچھ اپنے بچوں کو دے دیا اور اس کے بعد وصیت کر دی اور وصیت میں ہیں ، پھپیں چالیس روپے جو ان کو سمجھا کہ ہم اس کو تحفہ کے طور پر شمار کر سکتے ہیں وہ پیش کر دیا اور آنکھیں بند کر کے نے وہ وصیتیں قبول کر لیں۔کیونکہ یہ اصول تھا کہ جس کے پاس جو ہے اس کے مطابق وصیت کرے گا ، اس کے پاس اتنا ہی تھا اس لئے انہوں نے اس وصیت کو قبول کر لیا۔حالانکہ بچے ان کے بہت خوشحال۔بعض ایسی صورتیں بھی میرے سامنے آئیں کہ لکھ پتی تھے لیکن والدین کے حساب جب دیکھے گئے تو ان میں سے کسی ایک فوت شدہ کا تو پتہ چلا کہ سال ہا سال سے ایک پیسہ بھی ادا نہیں ہوا۔اس لئے کہ ہم بچوں کے پاس رہتے ہیں بس وہی ہمارا گزارہ تھا اور میں موصی۔تو قانون کا تقاضا تو بظاہر پورا کر لیا لیکن جس مقصد کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے یہ تحریک عطا فرمائی تھی کہ وہ لوگ جو نفس کی قربانی میں پورے اترتے ہیں مال کی قربانی میں بھی اگر وہ نمایاں صورت اختیار کریں تو ان کو بہشتی مقبرہ میں دفن کیا جائے۔نمازی ہوں دین میں ویسے اچھے ہوں ، ظاہری طور پر شریعت کے تقاضے پورے کرنے والے ہوں وہ بہر حال خدا کے نزدیک مقبول ہیں لیکن اگر مال کی قربانی میں بھی عام لوگوں سے بڑھ کر قربانی کرنے والے ہوں تو پھر وہ موصی بننے کے مستحق ہوں گے۔تو یہ جو شکلیں ہیں یہ تو مالی لحاظ سے قربانی کے اعلیٰ معیار پر شمار کی ہی نہیں جاسکتی۔پھر جب مزید چھان بین کی گئی بعض معاملات میں تو ایسی صورتیں بھی سامنے آئیں کہ موصی کا چندہ وصیت تو ہزار روپیہ ہے لیکن وصیت آنہ بھی نہیں کیونکہ اس کی آمد کوئی نہیں۔چندہ وقف جدید تو سو، دوسوروپے ہے لیکن وصیت کوئی نہیں کیونکہ کہا جاتا ہے کہ اس کی آمد کوئی نہیں۔ورثہ چھوڑا ہے اور اس میں سے وصیت ادا کی نقد رقم کی صورت میں اور حساب میں گذشتہ دس بارہ سال سے کوئی آمد