نظام وصیت — Page 180
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 180 ایسی وصیتیں شروع میں ہی قبول نہیں کرنی چاہئیں عمر کے آخری حصہ میں وصیت کرنے والوں کے متعلق فرمایا : - جو شخص ساری عمر کی کمائیاں کھانے ، جائیدادیں بنانے اور انہیں آگے تقسیم کرنے اور زندگی کی رونقوں سے لطف اندوز ہونے کے بعد ایسی لمبی عمر میں جا کر وصیت کرے اس کا یہ عمل وصیت کرنے کی روح کے ہی خلاف ہے۔اس لئے ایسی وصیتیں شروع میں ہی قبول نہیں کرنی چاہیں۔(رجسٹر ارشادات حضور ایدہ اللہ۔رجسٹر نمبر 3۔ارشاد نمبر 258 اخلاقی اور روحانی لحاظ سے اور مالی قربانی میں بھی صف اول میں ہو آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بعض صحابہ نے یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ مالی قربانی میں امیر ہم سے بہت آگے بڑھ گئے اور ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ ان کا مقابلہ کرسکیں تو اس پر آنحضور نے نے وہ ذکر الہی کی تعلیم دی کہ تم نماز کے بعد بیٹھ کر ذکر الہی کرو تو تم ان سے آگے نکل جاؤ گے۔پس اموال میں جو خدا کا فضل ہے کہ وہ بعض کو بعض پر فضیلت دیتا ہے اس سے متعلق آپ ایسا کوئی قانون بنائیں کہ وہ فرق مٹ جائے اور ہر شخص اس چیز میں حصہ لے سکے جس کے لئے خدا تعالیٰ نے اس کو استطاعت نہیں دی تو سارے کو توڑنے پھوڑنے والی بات ہو جائے گی کیونکہ میں مالی قربانی میں پیش پیش ہونے والوں کا گروہ بھی شامل ہے جس کے لئے شرط یہ ہے کہ دینی قربانی میں بھی صف اول میں ہو، اخلاقی اور روحانی لحاظ سے بھی اور مالی قربانی میں بھی صف اول میں ہو تو جو شخص صف اول میں اس لحاظ سے نہیں آسکتا اس میں نہ نظام جماعت کا قصور ہے نہ اس کا قصور ہے۔بخشنے والا خدا ہے خدا تعالیٰ نے یہ کہاں فرمایا ہے کہ اگر تم وصیت نہیں کر و گے تو میں تمہیں نہیں بخشوں گا اس لئے اس کی عاقبت کی فکر کرتے کرتے کو ہم تو ڑ بیٹھیں یہ درست نہیں ہے۔رپورٹ مجلس مشاورت 1983 صفحہ نمبر 135,134)