نظام وصیت — Page 167
167 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ ہوئے رحمتہ للعالمین ہوتے ہوئے ، رحمت کا عظیم مظاہرہ کرتے ہوئے جو احسان کیا ہے اس میں کمزوری نہ پیدا ہو۔یہ میرا فرض ہے۔یہ جماعت کا فرض ہے۔سمجھتے ہیں کہ بیوی نے بتیس مہر میں سے تین روپے کی قربانی ساری عمر میں دی اور وہ کے لحاظ سے موصیہ بن گئی إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ۔اس کے مقابلہ میں میں جانتا ہوں کہ احمدی بہنوں میں سے وہ بھی ہیں جو تین روپے کے مقابلہ میں تین لاکھ روپے مالی قربانی دے کر بھی اپنے آپ کو کے مرتبہ پر نہیں سمجھتیں اور وصیت نہیں کرتیں۔پس جو صاحب فراست عورت یا جو صاحب فراست مرد نظامِ وصیت کی حقیقت سمجھتا ہے، منتظمین کو کم از کم اتنی سمجھ تو ہونی چاہئے۔باقی یہ جو مثلا نئی شادی ہوئی ایک ہزار مہر رکھا۔وہ ایک ہزار مہر اس لئے رکھا کہ بتیس روپے مہر سے عورتوں کو چھٹکارا دلا دیا اور نا جائز بوجھوں سے اپنے غریب بھائیوں کو چھٹکارا دلا دیا۔اب موجودہ زمانہ میں ایک یہ رسم ہے کہ کہہ دیتے ہیں منہ سے کہ فارم کے اوپر لکھ دو پچاس ہزار، نہ دینا، کسے دھوکہ دے رہے ہو۔دنیا کو یا خدا تعالیٰ کو یا اپنی ضمیر کو یا اپنی بیوی کو یا اپنے سسرال کو یا اپنے میکے کو یعنی اپنے ہی خاندان کو ، کسے دھوکا دے رہے ہو؟ یہ نمائش دائرہ احمدیت و اسلام سے باہر ہوسکتی یہ جھوٹی نمائش دائرہ اسلام واحمد بیت کے اندر نہیں ہوسکتی۔سیدھے سادے مسلمان مومن بننے کی کوشش کرو۔خدا سے پیار کرواتنا کہ کوئی دوسرا انسان وہ پیار خدا کونہ دے سکے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اور محبت کرو اتنی کہ دوسرے سمجھ ہی نہ سکیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا عشق ہو سکتا ہے۔قرآن کریم اتنی عظیم کتاب ہے قرآن کے گردگھومو کہ تمہاری ساری ضرورتوں کو وہ پورا کرنے والی تعلیم ہے۔اور جماعت احمدیہ میں ایک بڑا گروہ ان موصیان کا ہونا چاہیئے جو اس ارفع مقام تک پہنچنے والے ہوں جن کا میں نے ذکر کیا۔پھر یہ جو انتہائی قربانیاں دینے والا جو خدا تعالیٰ کے عشق میں مست اپنی زندگیاں گزارنے والا ہے۔وہ کمزوروں کے بوجھ اٹھا لیتے ہیں اور جماعت کو پھر کسی قسم کی کمزوری نہیں پہنچتی ، نقصان نہیں پہنچتا۔تو