نظام وصیت

by Other Authors

Page 168 of 260

نظام وصیت — Page 168

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 168 وہ موصی آگے بڑھیں جو وصیت کے نظام کے مقام کو پہنچاننے والے اور عزم اور ہمت رکھنے والے۔میں اپنے گھر کی مثال دیتا ہوں۔اب منصورہ بیگم نے ۱/۷ کی وصیت کر دی۔میرے ذہن میں کم از کم نہیں تھا اور مجھے عجیب لگتا تھا کہ بعض دفعہ کسی Source سے کوئی آمد ہوتی تو ایک ناظر صاحب کو انہوں نے کہا ہوا تھا کہ مجھ سے پیسے لے کر وصیت ادا کیا کریں۔وہ گئے ہوئے تھے باہر اور یہ تھیں بے چین کہ میرے پاس پڑے ہوئے ہیں پیسے۔بار بار مجھ سے پوچھیں کہ کب آ رہے ہیں وہ۔میں نے وصیت کی رقم ادا کرنی ہے۔وہ بے چینی دیکھ کے میں نے کہا کہ مجھے دے دیں میں وہاں بھجوا دیتا ہوں اور رسید آ جائے گی۔کہا کہ نہیں آپ کو نہیں دینے اور دراصل مجھ سے بھی یہ چھپا رہی تھیں کہ میں نے ۱۰ سے اٹھا کے ۱/۷ کی وصیت کی ہوئی ہے۔وہ مجھتی تھیں کہ وصیت کے لحاظ سے موصیہ کا جو مقام ہے وہ اپنے خاوند کے ساتھ جو تعلق ہے اس سے بہت بڑا ہے۔خدا تعالیٰ کے لئے میں دے رہی ہوں مجھے اپنے خاوند کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ میں اپنے خدا کے حضور کیا پیش کر رہی ہوں۔پس ایسے مرد اور عورتیں کہ جو اس قسم کی قربانیاں دے سکتے ہیں۔دیں گے انشاء اللہ تعالیٰ اگر ان کی گائیڈنس (Guidance) اور راہنمائی اور ہدایت کے سامان صحیح ہوتے رہیں۔جو ایسے نہیں وہ اپنے مقام کو وصیت کر کے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ذلیل کرنے کی کوشش نہ کریں۔نظامِ وصیت سے باہر بھی وہ راہیں اسی طرح کھلی ہیں جس طرح پہلے کھلی تھیں جو خدا تعالیٰ کی محبت کو پاتیں اور خدا تعالیٰ کی جنتوں کی طرف لے جانے والی ہیں لیکن قرآن کریم کی ہدایت کی روشنی میں مومن اور مومن میں فرق ہے۔بعض جگہ خالی مومنین کہا گیا یا مومنون کہا گیا اور بعض جگہ مُؤمِنُونَ حَقًّا کہا گیا۔اور فرق بھی کیا ہے۔وہ میرا مضمون نہیں اس کی تفصیل میں میں نہیں جاتا لیکن مُؤْمِنُونَ حَقًّا وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والے اتنا کہ اپنے آپ کو فانی کر دینے والے۔جہاں سے تمہیں کچھ چیز ملے اس کے لئے محبت پیدا ہوتی ہے جہاں تم خوبصورتی دیکھو اس کے لئے پیار