نظام وصیت

by Other Authors

Page 160 of 260

نظام وصیت — Page 160

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 160 صدر و نائب صدر مجلس موصیان کی ذمہ داری : پس ایک تو موصیوں کے صدر اور نائب صدر کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے حلقہ کے موصیوں کا جائزہ لے کر ایک ماہ کے اندر اندر ہمیں اس بات کی اطلاع دیں کہ کس قدر موصی قرآن کریم ناظرہ جانتے ہیں۔اور جو موصی قرآن کریم ناظرہ جانتے ہیں ان میں سے کس قدر موصی قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہیں۔اور جو موصی قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہیں ان میں کس قدر قرآن کریم کی تفسیر سیکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہر موصی کو ( تینوں معنی میں جن کی تشریح میں پہلے کر چکا ہوں اب دہرانے کی ضرورت نہیں ) قرآن کریم آتا ہو۔اور تیسری ذمہ داری آج میں ہراس موصی پر جو قرآن کریم جانتا ہے یہ ڈالنا چاہتا ہوں کہ وہ دو ایسے دوستوں کو قرآن کریم پڑھائے جو قرآن کریم پڑھے ہوئے نہیں۔اور یہ کام باقاعدہ ایک نظام کے ماتحت ہوا اور اس کی اطلاع نظارت متعلقہ کو دی جائے۔انصار الله کی ذمه داری : انصار اللہ کو آج میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے طوعی اور رضا کارانہ چندوں کی ادائیگی میں شست ہو چکے ہیں (اللہ تعالیٰ آپ کو پچست ہو جانے کی توفیق عطا کرے) لیکن مجھے اس کی اتنی فکر نہیں جتنی اس بات کی فکر ہے کہ آپ ان ذمہ داریوں کو ادا کریں جو تعلیم القرآن کے سلسلہ میں آپ پر عائد ہوتی ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم کے سلسلہ میں آپ پر دوذ مہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ایک ذمہ داری تو خود قرآن کریم سیکھنے کی ہے اور ایک ذمہ داری ان لوگوں ( مردوں اور عورتوں ) کو قرآن کریم سیکھانے کی آپ پر عائد ہوتی ہے کہ جن کے آپ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اور محمد رسول اللہ علے کے ارشاد کے مطابق راعی بنائے گئے ہیں۔آپ ان دونوں ذمہ داریوں کو سمجھیں اور جلد تر ان کی طرف متوجہ ہوں۔ہر رکن انصار اللہ کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بات کی ذمہ داری اُٹھائے کہ اس کے گھر میں اس کی بیوی اور بچے یا اور ایسے احمدی کہ جن کا خدا کی نگاہ میں وہ راعی ہے قرآن کریم پڑھتے ہیں اور قرآن کریم کے سیکھنے کا وہ حق ادا کرتے ہیں جو حق ادا ہونا چاہیے اور انصار اللہ کی تنظیم کا یہ فرض ہے کہ