نظام وصیت

by Other Authors

Page 157 of 260

نظام وصیت — Page 157

157 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ دراصل ایسے گروہ کے قیام کے لئے ہی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی بناء پڑی کہ ایک ایسی جماعت بھی قائم ہو جو ہر قسم کی قربانی دے کر اپنے نفسوں میں دین اسلام کو قائم کرتی اور دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ظاہر ہے کہ اگر کوئی موصی قرآن کریم کا علم ہی نہ رکھتا ہوتو پھر وہ اس تیسری شرط کو کیسے پورا کر سکتا ہے۔وہ اسے ہرگز پورا نہیں کر سکتا اس لئے کی جو بنیا دی غرض ہے اس کے حصول کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر موصی قرآن کریم پڑھنا جانتا ہو اس کا ترجمہ جانتا ہو اور اس کی تفسیر کے حصول میں ہمہ تن اور ہر وقت کوشاں رہے۔قرآن کریم کی تفسیر قرآن کریم کے ترجمہ کی طرح ایسی نہیں کہ پڑھ لیا اور آ گیا اور کام ختم ہو گیا کیونکہ قرآن کریم میں تو علوم کے غیر محدود خزانے ہیں۔اسی لئے میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہر موصی کو قرآن کریم کی تفسیر آتی ہو۔دنیا میں ہمیں ایسا کوئی شخص نظر نہیں آئے گا جو قر آن کریم کی پوری تفسیر جانتا ہو۔کیونکہ اس کتاب مکنون سے نئے سے نئے علوم ظاہر ہوتے رہتے ہیں اور وہ انسان کے علم میں زیادتی کرتے رہتے ہیں۔قرآن کریم مختلف علوم کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔بہر حال قرآن کریم کی تفسیر کو پورے طور پر حاصل کر لینا تو ممکن نہیں۔ہاں یہ ممکن ہے اور یہ فرض ہے ہر مسلمان کا ( خصوصاً نظامِ وصیت میں منسلک ہونے والوں کا) کہ وہ ہمہ تن اور ہر آن علوم قرآنی کے حصول کی کوشش میں مصروف رہے۔اللہ تعالیٰ اس کی کوششوں میں برکت ڈالتا رہے۔موصی ہونے کی بنیادی شرط : اگر موصی قرآن کریم سے غافل ہوں اور جاہل ہوں تو وہ موصی ہونے کی بنیادی شرط کو پورا نہیں کر سکتے۔اس لئے ہر وہ شخص جو موصی ہے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ قرآن کریم ناظرہ جانتا ہو۔قرآن کریم کا ترجمہ جانتا ہو۔قرآن کریم کی تفسیر پڑھنے کی کوشش کرتا رہتا ہو۔اور اگر پہلے غفلت ہو چکی ہو تو اس غفلت کو دور کیا جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ چھ مہینے کا عرصہ کافی ہے۔چھ مہینے کے اندراندر ہر موصی کو اس کی استعداد کے مطابق قرآن کریم آجانا چاہیے جو بڑی عمر کے دیہات میں رہنے والے موصی ہیں انہوں نے بیشک ایک حد تک قرآن کریم کو بزرگوں کی زبان سے سُن