نظام وصیت — Page 156
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 156 ہی اہمیت رکھتا ہے اور اس سلسلہ میں میں بعض باتیں کہنا چاہتا تھا اس لئے میں نے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ اپنی بیماری کے باوجود اس خطبہ کے ذریعہ جماعت کے سامنے مختصر اوہ باتیں رکھوں اور ہدایات دوں۔سب سے پہلے موصی صاحبان کو مخاطب کرنا چاہتا ہوں کچھ عرصہ ہوا موصیوں اور موصیات کی تنظیم قائم کی گئی تھی اور میرا ارادہ تھا کہ بعض کام اس تنظیم کے سپر د کروں لیکن کچھ روکیں بیچ میں پیدا ہوتی رہیں اور صرف تنظیم ہی قائم ہوئی اور شائد اس میں بھی کچھ ستی پیدا ہوگئی ہو۔کیونکہ ابھی تک ان سے کوئی خاص کام نہیں لیا گیا۔خدا چاہتا تھا کہ یہ تنظیم قرآن کریم کے پڑھنے اور پڑھانے سے اپنا کام شروع کرے اس لئے جہاں جہاں بھی یہ تنظیم قائم ہوئی ہو اس کے صدر صاحبان اور موصیات میں سے جو نائب صدر ہیں وہ: ا۔ایک ماہ کے اندر اندر جائزہ لے کر رپورٹ کریں کہ ان کے حلقہ میں کس قدر موصی ہیں۔۲۔ان میں سے کس قدر قرآن کریم ناظرہ جانتے ہیں جو قرآن کریم ناظرہ جانتے ہیں ان میں سے کتنے قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہیں اور جو موصی اور موصیات قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہیں یا جانتی ہیں ان میں سے کتنے قرآن کریم کی تفسیر سیکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے کی بنیاد اپنے اموال کے دسویں حصہ کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر نہیں رکھی تھی بلکہ یہ تو ایک نچلا درجہ تھا جو موصیوں کے سامنے رکھا گیا تھا۔اصل غرض جس کے لئے کو قائم کیا گیا تھا وہ کامل تقویٰ کا حصول اور انسان کو ان روحانی رفعتوں کے حصول کے مواقع حسب استعداد بہم پہنچانا تھا جو انسان اپنے رب سے نئی زندگی حاصل کرنے کے بعد حاصل کرسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک ہی فقرہ میں جو بڑا جامع ہے ہر موصی پر اس فریضہ کو قائم کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں:۔تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پر ہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو سچا اور صاف مسلمان ہو۔“