نظام وصیت — Page 149
149 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ قیمت اس وقت جو تھی آج بتیس روپے کی قیمت بتیس ہزار روپے ہے۔حضرت مسیح موعود کا زمانہ تو اس سے بھی بہت سستا زمانہ تھا۔میں جب ولایت سے آیا اور اپنا گھر بسایا ، النصرت، قادیان میں، تو چار روپے کا لکڑی کا بھرا ہوا گڈا خریدا کرتے تھے۔اب یہ چلے ہوئے ہیں آنکھیں بند کر کے کہ بیتیس روپے مہر پر عورت وصیت کر سکتی ہے۔میں کہتا ہوں نہیں کر سکتی کیونکہ اس وقت وہ بیتیس روپے کے مہر پر جو قربانی دے رہی تھی آج وہ قربانی نہیں ہے۔تو خدا تعالیٰ نے عقل استعمال کرنے کے لئے دی ہے اور جو اصل بنیاد ہے وہ نمایاں قربانی ہے۔جو ما بہ الامتیاز پیدا کرنے والی ہے۔ایک عورت ایک آواز کے اوپر کوپن ہیگن کی مسجد کے لئے یا لنڈن کی مسجد کے لئے سارا زیور دے دیتی ہے۔وہ موصیہ نہیں بنتی اور ایک عورت آج کے بتیس روپے کا دسواں حصہ دے دیتی ہے اور وہ موصیہ بن جاتی ہے۔حالات بدل گئے ہیں تبدیلی کرو گے اس کے اندر یعنی ساری عمر میں تین روپے دے رہی ہے اور آپ کہتے ہیں بہت بڑی شان کی عورت ہے۔اس نے خدا کی راہ میں بہت بڑی مالی قربانی دی۔کبھی نماز چھوڑ بھی دیتی ہے۔بھول جاتی ہے بیچاری۔اسکو تو یہ چیز Cover نہیں کرتی۔۔۔حضرت مسیح موعود کے ذریعے ایک عظیم نظام اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا۔حضرت مصلح موعود ( اللہ آپ سے راضی ہو ) نے اس کے اوپر ایک زبر دست استدلالی تقریر کی جس میں اس کی شان اور عظمت واضح کی۔تو ہر ایک جاکے اس نظام کے متعلق پڑھے یا سنے۔رپورٹ مجلس مشاورت 1982 صفحہ 104 تا 107 ) قرآنی انوار کی اشاعت میں موسیان کی ذمہ داری خطبه فرموده 5 اگست 1966 ء) تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: کوئی پانچ ہفتہ کی بات ہے ابھی میں ربوہ سے باہر گھوڑ انگلی کی طرف نہیں گیا تھا۔ایک دن جب میری