نظام وصیت — Page 147
147 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ تعلق تھا اور بڑے اخلاص سے اسلام کی تبلیغ کر رہے تھے وہ ٹی بی کے بیمار ہو گئے۔حضرت مصلح موعود( اللہ آپ سے راضی ہو ) نے انہیں یہاں بلالیا۔ڈاکٹروں نے کہا کہ ان کو بہت زیادہ تکلیف ہے۔ڈاکٹری مشورہ یہ تھا کہ ان سے کام نہ لیا جائے آرام کریں۔ڈاکٹروں کا تو یہ بھی خیال تھا کہ ایک سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے۔نذیر احمد علی صاحب نے حضرت مصلح موعود (اللہ آپ سے راضی ہو ) کی خدمت میں لکھا کہ میں مرنے سے پہلے وہاں کام کرنا چاہتا ہوں مجھے آپ واپس بھیج دیں۔چنانچہ انکو وہاں واپس بھیج دیا گیا اور کچھ عرصے کے بعد ہی وہ فوت ہو گئے اور وہاں ان کی قبر بنی۔یعنی یہ ایک نمایاں قربانی ہے۔لیکن ایک یہ ہے کہ ایک گاؤں ہے اس میں ایک بڑھیا رہتی ہے جس کا بوڑھیوں والا ایمان ہے وہ قرآن پڑھتی ہے اور بہت درود پڑھتی ہے اور بیٹھے ذکر کرتی رہتی ہے اس کے عزیز ہیں وہ روٹی دے دیتے ہیں اس کو کوئی کام نہیں، کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ہم اس کو وہ معیار نہیں دے سکتے جو نذیر احمد علی صاحب کو دے سکتے ہیں۔اصل یہ ہے کہ موصی کی تمام صلاحیتوں کے اندر سے تقومی پھوٹ پھوٹ کے نکل رہا ہو یعنی جو صلاحیتیں اللہ تعالیٰ نے کسی فرد واحد کو دی ہیں ان میں تقویٰ کی جھلک نمایاں ہو۔(رپورٹ مجلس مشاورت 1981 ء صفحہ 157,156 ) بہشتی مقبرہ میں جانے کے دو دروازے ہیں اور ہر دو انتہائی قربانی چاہتے ہیں موصی کی قربانی کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود نے دو شکلیں بنائی ہیں ایک یہ کہ اس کا ایک عام مقام ہے تقویٰ اور ظاہری ایمان کے لحاظ سے۔نمازیں پڑھتا ہے۔سچ بولتا ہے۔لیکن صاحب کشف والہام نہیں ہے۔جماعت کا مبلغ نہیں ہے۔اس کے لئے کہا کہ یہ تیرے لئے دروازہ کھول دیتے ہیں۔اگر تجھے خدا نے دولت دی ہے تو مالی قربانی کر پلس (Plus) وہ چیز جو ہماری جماعت کا ایک عام معیار ہے نیکی اور تقوی کا یہ وصیت کی انسٹیٹیوشن ہے۔تو دومیدان کر دیے ناں۔ایک انتہائی مالی قربانی ہے ایک انتہائی غیر مالی قربانی۔وصیت کے لئے انتہائی مالی قربانی ہے۔کوئی چور آکے