نظام وصیت — Page 138
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 138 اور اس کو ہم مذاق سمجھ لیں اور خاوند کچھ قربانی نہیں کر رہا یعنی خاوند کی کمائی میں سے بیوی پوری حصہ دار بھی ہے اور اس کی کوئی آمد بھی نہیں جس میں سے وہ وصیت ادا کرے اور اس کے کریڈٹ میں روحانی طور پر ظاہر میں، یہ میں بار بار دہرا رہا ہوں کہ میرا یہ کام نہیں ہے کہ کسی کے تقویٰ پر فتویٰ دوں۔لیکن میرا یہ کام ہے کہ میں دیکھوں کہ جو ظاہری نظام ہے ظاہری حالات کے لحاظ سے اس کے مطابق فیصلہ ہونا چاہیے، اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔باقی یہ تو ہمارا نہیں ہے عقیدہ کہ سوائے اس شخص کے جو بہشتی مقبرہ میں دفن ہو اور کوئی جنت میں ہی نہیں جاسکتا۔یہ نہیں عقیدہ ہمارا۔ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ جنت میں وہی جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جنت میں بھیج دیا جائے اور اپنا عمل جو ہے وہ یہاں کوئی کام نہیں کرتا۔لیکن جو نظام بنائے جاتے ہیں دنیا میں نیکی اور تقویٰ کو قائم کرنے کے لئے اور جو نظام بنائے جاتے ہیں اسلامی حسن کو دنیا میں اجاگر کرنے کے لئے اور جو نظام بنائے جاتے ہیں نوع انسانی کے دل خدا اور محمد علے کے لئے جیتنے کے لئے وہ جو نظام ہیں ان میں ظاہری صورت میں یہ چیزیں ہمارے سامنے آنی چاہئیں ورنہ یہ مذاق بن جاتا ہے۔تو جماعت کو یہ مذاق نہیں برداشت کرنا چاہیے۔خاوند جو ہے وہ اس لئے وصیت نہیں کرتا کہ جی میرے ۳۰ ایکٹر زمین ہے پھر تین ایکٹر مجھے وصیت میں دینی پڑے گی اور بیوی کو کہتا ہے تیرے پاس ایک چپہ زمین نہیں ہے تو کر دے وصیت تجھے تو کچھ نہیں دینا پڑے گا۔تو یہ نہیں ہونا چاہیے نہ ہوگا یہ۔اگر ہو گیا ہے تو اس کے لئے آپ بھی استغفار کریں میں بھی بہت استغفار کر رہا ہوں۔تو آئندہ سے یہ نہیں ہونا چاہیے۔بلکہ ساری عورتوں کی وصیتوں کو revise کریں اور نئے سرے سے جائزہ لیں۔یہ سمجھنا کہ وصیت کے لئے صرف یہ خواہش کافی ہے کہ میں وصیت کا فارم پر کردوں اور اسے مان لیں یہ درست نہیں۔اس کے لئے ہمیں کچھ سوچنا پڑے گا۔۔۔۔کیونکہ یہ تو میں نے نہیں کہا کہ ہر عورت ایسی ہے جس کی وصیت مشتبہ ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ بعض عورتیں ایسی ہیں جن کی وصیتیں مشتبہ ہیں اور اگر ایک عورت بھی ایسی ہو تو اسے نہیں برداشت کرنا چاہیے۔وہ نظامِ