نظام وصیت

by Other Authors

Page 127 of 260

نظام وصیت — Page 127

127 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ جائیداد چھوڑے۔یا زیادہ۔اس کے بیٹے اور بیٹیاں اس کے وارث ہیں۔پس اس آیت کا مسئلہ زیرِ بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کیونکہ اگر اسکا نام وصیت رکھ لیں۔تو کیا ایک شخص بیوی کو اس کا حصہ دے جائے۔تو وہ مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے کے قابل ہو جائیگا۔خواہ وہ دس ہزار روپیہ بھی بیوی کو دے جائے۔تو بھی مقبرہ بہشتی میں دفن نہیں ہو سکے گا۔اس وقت ہمارے مد نظر وصیت سے وہ خاص امر مراد ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تجویز کیا ہے۔قرآن کریم کی اس آیت میں اس بات کا ذکر نہیں ہے۔کہ وصیت جو دین کے لئے کی جائے۔وہ کتنے سال کی ہو۔بلکہ یہاں یہ ذکر ہے۔کہ ایک شخص جو کچھ چھوڑ جائے۔وہ اس کے وارثوں کا ہونا چاہئے۔خواہ وہ تھوڑا ہو۔یا زیادہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک نئی بات پیدا کی ہے۔اور وہ یہ کہ جو احمدی تقویٰ وطہارت اختیار کرے۔اسلام کے احکام پر چلے۔اور اپنے مال کی دین کے لئے اتنی قربانی کرے۔وہ مقبرہ بہشتی میں داخل ہوگا۔یہ صحیح ہے کہ ہر مومن جنت میں جائیگا۔مگر ہر ایک مومن کو خدا تعالیٰ پہلے نہیں بتا دیتا۔کہ وہ جنت میں جائیگا۔البتہ خاص مومنوں کو الہام اور رویا سے بتا دیا جاتا ہے۔اس زمانہ میں مادیت کی ترقی کو دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا۔کہ ہم نے جو مومنوں کے لئے وعدہ کیا ہے۔کہ وہ جنت میں جائینگے۔اگر ایک مومن دین کے لئے اتنی قربانی کرے۔تو اسے ہم قبل از وقت خبر دیتے ہیں۔کہ وہ جنتی ہو گیا تو اسلام کی تائید اور مدد کر نے والوں کے لئے خدا تعالیٰ نے قومی الہام کے ذریعہ بتا دیا۔کہ اگر وہ ان امور پر عمل کریں۔تو انہیں اسی دنیا میں سُنا دو۔کہ وہ جنت میں جائیں گے۔یہ اس وصیت کا مفہوم ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رکھی ہے۔اور یہ عام وصیت کے مفہوم سے علیحدہ ہے۔اور اس کے لئے احکام بھی علیحدہ ہیں۔اس کے متعلق ہم نے جس بات پر فیصلہ کی بنیاد رکھنی ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقوال ہیں۔اور اگر آپ کے کلام سے بالنص کوئی مفہوم نہ معلوم ہو۔تو یہ دیکھنا ہوگا۔کہ استنباط کیا ہوتا ہے اور اگر استنباط سے بھی بات معلوم نہ ہو۔تو پھر اسلام کی عام روح کے ماتحت فیصلہ کریں گے۔اور اسپر عمل کریں گے۔رپورٹ مجلس مشاورت 1932 ، صفحہ 27 تا 29 )