نظام وصیت — Page 128
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 128 بہشتی مقبرہ کی اصل غرض روپیہ نہیں بلکہ اچھے اعمال اور تقویٰ اور قربانی ہے یہ تو ظاہر ہے کہ مقبرہ بہشتی کی غرض روپیہ حاصل کرنا نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے: اور ایک جگہ مجھے دکھلائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا۔اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں۔( الوصیت صفحہ ۲۰) تو قبرستان کا خیال ان شرائط کے بنانے سے پہلے ہوا۔اور اس کے بعد ایک تحریک پیدا ہوئی۔اب اخویم مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی وفات کے بعد چونکہ میری وفات کی نسبت متواتر وحی الہی ہوئی۔میں نے مناسب سمجھا کہ قبرستان کا جلدی انتظام کیا جائے۔“ ( الوصیت صفحہ ۲۰) تو یہ الہامات اور مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات اس تحریک کو پورا کرنے کا محرک ہو گئے۔اس پر حضور نے کیا کیا؟ اس لئے میں نے اپنی ملکیت کی زمین جو ہمارے باغ کے قریب ہے۔جس کی قیمت ہزار روپیہ سے کم نہیں ، اس کام کے لئے تجویز کی۔“ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہر احمدی اس قبرستان میں داخل ہو سکے گا۔اور وہ رؤیا اس طور پر پورا ہو جائے گا۔تب وحی خفی نازل ہوئی۔اور بتایا کہ یہ رویا اس طرح پورا کرو کہ ایسے قبرستان کے لئے کچھ شرائط لگا دیئے جائیں کہ اس معیار کے مطابق لوگ اس میں داخل ہوں۔اور یہ اس جماعت کے پاک " دل لوگوں کی خواب گاہ ہو۔جنہوں نے درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم کرلیا اور دنیا کی محبت چھوڑ دی۔اور خدا کے لئے ہو گئے اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرلی۔اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی طرح وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھلایا۔آمین یارب العلمین یہ شرائط حضور نے اپنی سمجھ کے مطابق لگائے ہیں۔اگر حضرت مسیح موعود کی یہ شرطیں اپنی نہ ہوں ، تو پھر یہ کہنا جائز ہوگا۔کہ ہر شخص جوان شرطوں کے ماتحت وصیت کرے وہ جنتی ہے۔حالانکہ یہ واقعہ کے خلاف ہے۔کیونکہ اس صورت میں لازم آئیگا کہ ہر وصیت کرنے والا لازما جنتی ہے۔حالانکہ