نظام وصیت — Page 126
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 126 نے اگر آزادی سے رائے بدل لی تو خیر ورنہ میں سمجھا کر خطبوں اور دلائل کے ذریعہ قائل کرنے کی کوشش کرونگا۔اور پھر اگلے سال اس معاملہ کو پیش کیا جائے گا۔ورنہ ہمارا مشورہ ست بچوں کا سا ہوگا۔میں جماعت میں آزادی کی روح پیدا کرنا چاہتا ہوں جب میں کوئی بات کہوں کہ یوں ہونی چاہیے تو جب تک نص کے خلاف نہ ہو کر و۔اور جو نہ کرے وہ احمدی نہیں ہوسکتا۔مگر کوئی اس بات کے لئے مجبور نہیں ہو سکتا کہ اپنی رائے بھی دل سے نکال دے۔اس وقت جن دوستوں نے رائے بدلنی ہو وہ کھڑے ہو جائیں۔اس پرستتر (۷۷) دوست کھڑے ہوئے اور حضور نے فرمایا :- یہ دوست کہتے ہیں کہ اب ہم اس رائے کے قائل نہیں رہے کہ ایک پیسہ بھی اگر کسی کی تجہیز و تکفین کے بعد بچے تو اسے جائیداد سمجھا جائے۔چونکہ یہ کافی تعداد ہے اس لئے میں اس تجویز کو مستر د کرتا ہوں۔باقی اس وقت یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا کہ کیسی جائیداد کی وصیت ہونی چاہیے۔اس کے لئے ایک کمیٹی بنا کر غور کرایا جائے گا عورتوں کی وصیت کے متعلق بھی اسی وقت فیصلہ ہوگا۔( احمد یہ گزٹ 11 مارچ 1927 ء نمبر 13 جلد اوّل صفحہ 33 تا 36 ) خاص مومنوں کو قبل از وقت جنت کی بشارت ابھی بہت سے مسائل ہیں جن پر ہمیں غور کرنا ہے۔اس لئے چاہتا ہوں۔کہ اس کے متعلق دوستوں کی رائے لے لوں۔مگر میں ایک بات کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں۔جس سے شائد غلط فہمی ہوئی ہو۔ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے میر صاحب کے منہ سے وصیت کا لفظ نکلا ہے۔مگر مجھے یاد ہے کہ وہ آیت ترکہ کے متعلق ہے۔میر صاحب کے بیان کے مطابق یہ بات بن جاتی ہے کہ اگر وصیت کرنے والے کی جائیداد میں سے وصیت سے کچھ مستثنیٰ کیا جائے۔تو یہ اس آیت کے خلاف ہے۔مگر یہ آیت ورثاء کے متعلق ہے۔چاہے اس کا نام وصیت رکھیں۔اور چاہے ترکہ۔دونوں صورتوں میں آیت یہ کہتی ہے کہ لرجال نصيب مـمـاتـرك الوالدان والا قربون وللنساء نصيب مماترك الوالدان والاقـــربـون مـمــاقـل مـنــه او كثر نصيباً مفروضا۔یعنی کوئی شخص خواہ تھوڑی