نظام وصیت

by Other Authors

Page 122 of 260

نظام وصیت — Page 122

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 122 وہاں کے لوگوں میں قادیان کی محبت اور قادیان کو واپس لینے کا جذ بہ بھی پیدا کریں جن لوگوں کو خدا توفیق دے وہ ایسا انتظام کریں کہ ان کی وفات کے بعد قادیان ان کی نعش لے جائی جا سکے تو اس کا بہت اچھا اثر ہوگا۔تاریخ احمدیت جلد 18 صفحہ 104 تا 112 وصیت کیلئے ایسا مال ہونا چاہیے کہ جسے آئندہ نسلیں یاد کریں بر موقع مجلس مشاورت منعقدہ 3 تا 5 اپریل 1926ء) بہشتی مقبرہ کے متعلق یہ سوال ہے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رسالہ الوصیت کے ما تحت کس قدر آمد یا جائیداد والا شخص وصیت کر سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وصایا کے متعلق لکھا ہے۔کہ اس وقت کے امتحان سے بھی اعلیٰ درجہ کے مخلص جنہوں نے درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم کیا ہے۔دوسرے لوگوں سے ممتاز ہو جائیں گے۔اور ثابت ہو جاویگا۔کہ بیعت کا اقرار انہوں نے سچا کر کے دکھلا دیا ہے۔اور اپنا صدق ظاہر کر دیا ہے۔“ مگر میں نے غور کیا ہے کہ موجودہ صورت میں منشاء وصیت پورا نہیں ہو رہا ہے۔مثلاً عورتیں اس قسم کی وصیت کرتی ہیں کہ میری دس روپے کی بالیاں ہیں۔اس کا دسواں حصہ ایک روپیہ میں وصیت میں دیتی ہوں۔یہ کوئی ایسی قربانی نہیں ہے کہ جسے آئندہ نسلیں یاد کریں۔ایسی عورت نادار کہلائے گی۔اور ناداروں کے لئے جو شرط حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رکھی ہے اس کے رو سے مقبرہ میں داخل ہو سکے گی۔یعنی دین کی خدمت کر کے لیکن مالی قربانی کے لحاظ سے اس کی وصیت وصیت نہ ہوگی۔اسی طرح ایک آدمی ہے جو مثلاً دوسوروپیہ ماہوار تنخواہ پاتا ہے۔اس کا باپ غریب آدمی تھا۔اس وجہ سے اس کا مکان فرض کر لو۔پانچ سوروپیہ قیمت کا ہے۔اب وہ مکان کی وصیت کر دیتا ہے۔مگر آمدنی میں سے کچھ نہیں دیتا۔بتاؤ۔یہ اس کی ایسی قربانی ہے کہ اگلی نسلیں اس کی وجہ سے اس کے لئے دعا کریں۔اور وہ حضرت مسیح موعود کے قرب میں دفن کیا جائے۔دراصل وصیت کے لئے ایسا مال ہونا چاہیے جس کے متعلق خیال ہو کہ آئندہ نسل کے کام آنا ہے۔اسی احساس کی قربانی جنت کے قابل