نظام وصیت

by Other Authors

Page 120 of 260

نظام وصیت — Page 120

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 120 کی نعش ان قبرستانوں میں سے کسی ایک قبرستان تک پہنچانے کے اخراجات اس کے اپنے ترکہ یا جائیداد میں سے پورے کئے جائیں۔اور اس کی راہ میں کوئی قانونی یا کوئی اور رکاوٹ حائل نہ ہو۔وصیت یا چندہ جات کے وعدے کے ضمن میں جو تحریر لکھی جائے گی اس میں یہ صراحت کی جائے گی کہ اس شرط کے پورا نہ ہو سکنے کا یہ مطلب نہ ہوگا کہ وصیت کو نا جائز یا خلاف قاعدہ قرار دیا جا سکے گا۔یا اس کی جائز یا قانونی حیثیت پر کوئی حرف آسکے گا یا ادا کردہ چندوں کے بارے میں کسی مطالبہ یا دعوی کا جواز پیدا ہو سکے گا۔صدر انجمن ایسے تمام اشخاص کے نام جنہوں نے اس سکیم میں شامل ہونے کے بعد اس کی تمام شرائط کو پورا کر دیا ہوگا قادیان یار بوہ کے قبرستانوں میں مناسب جگہ پر کندہ کرانے کا انتظام کرے گی نیز ان کے نام ایک ریکارڈ کی شکل میں بھی محفوظ رکھے جائیں گے۔جن کی نقول بڑے بڑے احمد یہ مراکز میں بھی رکھی جائیں گی۔تا کہ احمدیوں کی آنے والی نسلوں کو اپنے ان وفات یافتہ بھائیوں کی روحوں کے واسطے دعا کی تحریک ہوتی رہے۔جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اموال کو اسلام اور انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کیا۔۔یہ امر بہت ضروری ہے اور اس بارے میں پوری احتیاط کی جائے کہ اس تمام سکیم پر عملدرآمد کے وقت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے رائج الوقت قوانین کو پوری طرح ملحوظ رکھا جائے تا اس بناء پر کسی وقت بھی کوئی اعتراض پیدا ہو کر اس سکیم یا اس کے مقاصد کو نا کام نہ بنا سکے۔جیسا کہ الوصیت میں بیان کیا گیا ہے وصیت کی اس سکیم کے فوائد اور رنگ میں بھی ظاہر ہوں گے اور بالآخر یہ انسانیت کے کمزور طبقوں کو اٹھانے اور انسانی فلاح و بہبود اور خوشحالی کو ترقی دینے کا ذریعہ ثابت ہوگی۔کوئی نظام بھی جس کی بنیاد جبر و اکراہ پر ہو اس مقصد میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔الوصیت میں جو سکیم پیش کی گئی ہے خالصتاً طوعی اور رضا کارانہ ہے اور خدمت اسلام کے ایک اجر کا درجہ رکھتی ہے۔اس لحاظ سے جو اخلاقی اور روحانی فوائد اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہوں گے تمام دوسرے نظام ان سے محروم ہیں۔رفتہ رفتہ ایک ملک کے بعد دوسرا ملک اس تحریک کو اپنانے کے لئے آگے آتا رہے گا۔اور اسطرح ان