نظام وصیت — Page 117
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 117 will become radiant for you and you will be glorified on earth as He is glorified in the Heavens۔May God be with you۔Amen۔میرے عزیز امریکن بھائیو! جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی وفات سے دو سال قبل وصیت کے طور پر ضروری ہدایات اس دستاویز کی شکل میں شائع فرما ئیں تھیں جو ” الوصیت“ کے نام سے موسوم ہے۔یہ دستاویز بہت اہم ہے۔ہر احمدی کو چاہیے کہ وہ اس کا ضرور مطالعہ کرے۔میں سمجھتا ہوں کہ آپ سب نے اس کا انگریزی ترجمہ بغور مطالعہ کر لیا ہوگا۔اگر اس کا انگریزی ترجمہ آپ لوگوں کو بآسانی دستیاب نہ ہوسکتا ہو تو میں برادرم خلیل احمد ناصر کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنے ساتھیوں کی مدد سے الوصیت کا جلد از جلد ترجمہ کر کے آپ سب میں اسے تقسیم کرا دیں۔مجھے یقین ہے کہ اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ میں سے ہر ایک میں یہ شدید خواہش پیدا ہوگی کہ وہ بھی اس عظیم الشان تحریک میں جو اس میں بیان کی گئی ہے اور جو اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے نہایت درجہ اہمیت کی حامل ہے شامل ہونے کی سعادت حاصل کرے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے پر آپ لوگوں کو معلوم ہوگا کہ اس میں جو سکیم بیان کی گئی ہے اس کے مطابق جماعت کے ہر اس فرد سے جو اس میں حصہ لینا چاہتا ہے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی جائیداد کے دسویں حصہ یا جائیداد کی قیمت کے دسویں حصہ کے برابر نقد رقم بحق صدر انجمن احمدیہ وصیت کرے۔یا اگر اس کی کوئی قابل ذکر جائیداد نہ ہو تو وہ اپنی زندگی میں اپنی ہفتہ وار یا ماہوار آمد کا دسواں حصہ اشاعتِ اسلام اور انسانی فلاح و بہبود کی خاطر صدرانجمن احمد یہ کوادا کرتار ہے۔یہ ضروری ہے کہ اس تحریر میں جو جائیداد کی وصیت کے طور پر لکھی جائے یا جس کے ذریعہ چندہ وصیت کی ادائیگی کا وعدہ کیا جائے یہ امر بالصراحت مذکور ہو کہ جائیداد کی وصیت یا چندہ وصیت کی ادائیگی ان میں سے جو بھی صورت ہو ہر قسم کی شرائط اور پابندیوں سے آزاد ہوگی۔اور موصی یا اس کے