نظام وصیت — Page 99
99 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ کوئی شخص ظاہر طور پر کسی حکم شریعت کو توڑنا تو نہیں؟ وصیت کے متعلق میرے خیالات بہت سخت ہیں۔میرے نزدیک وصیت مرض الموت کی درست نہیں۔کیونکہ اس وقت انسان خواہ کسی ایمان کا ہو۔موت کو قریب سمجھ کر مال کی قربانی کے لئے تیار ہوتا ہے دوم اس سے یہ نقص پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص جواڑ ھائی تین سو روپیہ ماہوارتنخواہ پاتارہتا ہے اور دین کی خدمت سے غافل اور اسکی جائیداد کوئی نہیں ہوتی۔وہ ایسے وقت میں وصیت کر کے وصیت کے اصل مفہوم کے خلاف عمل کر کے وصیت کنندوں میں شامل ہو جاتا ہے۔سوم میرے نزدیک یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ ایک شخص کا گزارہ اس کی جائیداد پر ہے یا تنخواہ پر اگر اصل چیز اس کی تنخواہ ہے تو اس پر وصیت ہونی ہ چاہیے۔ورنہ ایک ہنسی بن جاویگی اسی طرح میرے نزدیک یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کوئی شخص ظاجہ طور پر کسی حکم شریعت کو توڑتا تو نہیں؟ ظاہر کی شرط اس لئے کہ دل کا حال خدا تعالیٰ جانتا ہے۔میرے نزدیک جو داڑھی بھی منڈوا تا ہے اس کی بھی وصیت جائز نہیں۔کیونکہ شعار اسلام کی ہتک کرنے والا ہے۔( اخبار الفضل نمبر 45 جلد 7 مؤرخہ 8 دسمبر 1919 ء ) وصیت کا ادنی درجہ حضرت مسیح موعود نے دس فیصدی کہا ہے خطبه جمعه فرمودہ 19 مارچ 1926ء) میں نے جلسہ سالانہ میں اعلان کیا تھا کہ مالی مشکلات کی وجہ سے کچھ عرصہ تک ہر سال چندہ خاص لینا پڑے گا۔تب جا کر کام چلے گا۔میں نے کہا تھا دوست اپنی ایک ماہ کی آمدنی کا چالیس فیصدی ہر سال دیا کریں۔یہ ایک مہینہ کی آمد کے لحاظ سے سوا تین فیصد بنتی ہے۔اور پہلے جماعتیں ۱/۴-۶ فیصدی چندہ دیتی ہیں یعنی ایک آنہ فی روپیہ ماہوار اس میں اگر ایک ماہ کی آمدنی کے چندہ کی اوسط جمع کر دی جائے تو یہ ۲/ ۱- ۹ فیصدی بنتا ہے۔اور یہ وصیت کے ادنی معیار تک بھی نہیں پہنچتا کیونکہ وصیت کا ادنیٰ درجہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دس فیصدی کہا ہے۔تو