نظام وصیت — Page 97
97 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ وصیت کرتا ہے اسے منتقی بنا بھی دیتا ہے۔پس میری تین نصیحتیں ہیں۔خصوصیت سے کمزوروں کو نصیحت ہے کہ وہ دوسروں کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ بنیں۔وہ جنت کے دروازے پر کھڑے ہوکر جنت سے محروم نہ ہوں اور ایسا نہ ہو کہ ان کے لئے وہی الفاظ کہنے پڑیں جو اللہ تعالیٰ نے کہے۔ان الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ کہ منافق دوزخ کے سب سے نچلے حصہ میں جائے گا پس منافقوں کو چاہیے کہ وہ اپنی منافقت کو چھوڑ کر اخلاص کے مقام پر آجا ئیں۔عیش کے سامانوں سے کبھی جنت حاصل نہیں ہوتی اور نہ ظاہری تکلیفوں کی وجہ سے جنت ضائع ہوسکتی ہے۔جنت ہر انسان کا دل اپنے لئے بنا سکتا ہے جس کا دل مطمئن ہے وہ جنت میں ہے اور جس کا دل مطمئن نہیں خواہ وہ روپوں کے ڈھیر رکھتا ہے تب بھی وہ دوزخ میں ہے۔حضرت خلیفہ اول ( اللہ آپ سے راضی ہو ) فرمایا کرتے تھے کہ ایک غریب بیوہ عورت سے میں نے پوچھا تمہیں کوئی ضرورت ہو تو بیان کرو۔اس کا ایک لڑکا بھی تھا اور بے حد غریب تھی۔میں نے پوچھا کہ کسی مدد کی ضرورت ہو تو بتاؤ۔وہ کہنے لگی اللہ نے بہت کچھ دیا ہوا ہے اس کا بڑا فضل ہے۔آپ فرماتے میں نے اس کا گھر دیکھا تو اس میں صرف ایک چھوٹا سا لحاف اور معمولی سی چار پائی تھی۔میں نے پوچھا مائی تمہیں لحاف چاہیے۔کہنے لگی مولوی صاحب میر الحاف بڑا عمدہ ہے۔خوب گرم ہو جاتی ہوں۔آپ نے فرمایا سردی زیادہ ہے اور لحاف چھوٹا ہے گرم کس طرح ہوتی ہو۔کہنے لگی ہم ماں بیٹا ایک ہی جگہ سو جاتے ہیں جب سردی لگتی ہے تو پہلے ایک پہلو کوگرم کر لیتے ہیں، پھر دوسرے کو۔آپ اصرار کرنے لگے کہ کوئی ضرورت بیان کرو۔مگر وہ یہی کہتی رہی کہ اللہ کا بڑا فضل ہے۔آخر جب آپ نے زیادہ زور دیا تو اس نے کہا کہ اگر کچھ دینا ہی ہے تو موٹے حرفوں والا قرآن لے دیں۔میری نظر کمزور ہوگئی ہے اور باریک حرفوں والے قرآن سے حروف نظر نہیں آتے۔اب دیکھو یہ جنت کہاں سے پیدا ہوئی۔اس کے دل میں جنت تھی ، اس لئے باوجود یہ کہ حضرت خلیفہ اول ( اللہ آپ سے راضی ہو ) نے اس کے دل میں کسی چیز کی خواہش پیدا کرنی چاہی پھر بھی پیدا نہ ہوئی۔پس خدا نے اسے دنیا میں ہی جنت دے رکھی تھی۔دراصل خواہشات کی زیادتی دوزخ ہے۔جنت یہی ہے کہ دل