نظام وصیت — Page 91
91 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ فائدہ نہیں ہوسکتا۔یوں قربانی کرنے کو منافق بھی کرتا ہے۔کبھی لوگوں کو دکھانے کے لئے کبھی دوسروں کے ضرر سے بچنے کے لئے اور کبھی خود فائدہ حاصل کرنے کے لئے۔لیکن چونکہ اس کے دل میں اخلاص، محبت اور بشاشت نہیں ہوتی ، اس لئے اس کی قربانی خواہ وہ کتنی ہی اہم کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی قیمت نہیں رکھتی۔پس ضروری ہے کہ ہم جماعت میں اخلاص اور تقویٰ پیدا کریں کیونکہ اخلاص اور تقویٰ پر مبنی قربانیاں ہی سلسلہ کو مضبوط کرتی ہیں۔اس میں شبہ نہیں جماعت کے مخلصین نہایت شاندار قربانیاں کرتے ہیں مگر منافقوں کی تعداد باقیوں کا کام بھی خراب کر دیتی ہے اور خلوص سے جماعت کا ایک حصہ جو کام کر رہا ہوتا ہے اس میں رخنہ واقع ہو جاتا ہے۔پھر چندے ہیں ان کے متعلق بھی میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں سستی پائی جاتی ہے جو فرض چندے ہیں ان کے متعلق بھی ہزار ہا آدمی ہماری جماعت میں ایسے موجود ہیں جو سالہا سال تک ادا نہیں کرتے اور ہزار ہا ایسے آدمی ہیں جو کہتے رہتے ہیں کہ چندے زیادہ ہیں ہم دے نہیں سکتے۔حالانکہ اگر ان کی جو چندہ دیتے ہیں ایک فہرست بنائی جائے اور چندہ نہ دینے والوں کی بھی فہرست تیار کی جائے تو چندہ نہ دینے والے ایسے ہوں گے جو دینے والوں سے زیادہ آسودہ اور امیر ہوں گے۔فرق صرف یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے نفس پر روپیہ خرچ کرنے کی عادت ڈال لیتے ہیں اور دوسرے خدا کے لئے روپیہ خرچ کرنے کی عادت ڈال لیتے ہیں۔پھر ہزار ہا آدمی ہماری جماعت میں ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو بسا اوقات چندے کے لئے فاقہ برداشت کرتے ہیں اور بسا اوقات اپنی بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر مرکز میں روپیہ بھیجتے ہیں اور اس تنگی کے باوجود وہ اپنے دل میں بشاشت پاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ خدا کا قرض اسی لئے ہے کہ اسے ادا کر دیا جائے۔در حقیقت وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے خدا نے جماعت احمدیہ کی تعریف کی ہے ورنہ وہ منافق جو سالہا سال چندوں کی ادائیگی کی طرف توجہ نہیں کرتے ان کی وجہ سے کسی جماعت کی کیا تعریف ہو سکتی ہے۔ان کے لئے تو لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہونے والی بات ہے بلکہ دراصل وہ جماعت کے لئے نگ و عار کا باعث ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ شاید جماعت کے ساتھ جو الہی وعدے ہیں ان میں وہ