نظام وصیت — Page 85
85 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ الله جنہوں نے رسول کریم ﷺ کے ارشاد پر اپنی جان و مال کو قربان کر دیا۔یہاں تک کہ بدر کے موقع پر جبکہ کفار مکہ کا رعب اکثر کے دلوں پر چھایا ہوا تھا اور جبکہ رسول کریم ﷺ کے ساتھی ابھی تازہ تازہ مکہ کے مصائب سے نکلے تھے اور جبکہ بہتوں کے پاس ہتھیار تک نہ تھے اور بہت سے ایسے تھے جو ہتھیار چلانا بھی نہیں جانتے تھے اس وقت رسول کریم ﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ دشمن اس وقت تم سے تعداد میں زیادہ ہے، تیاری میں زیادہ ہے اور ہتھیار بھی زیادہ رکھتا ہے۔اب تم لوگوں کا کیا منشاء ہے۔مہاجرین نے جواب دیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہمارا منشاء یہی ہے کہ ان سے جنگ کی جائے۔مگر رسول کریمکے دل میں ایک اور بات کھٹک رہی تھی اور وہ یہ کہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ایک معاہدہ کیا تھا جس کی رو سے انصار کا فرض قرار دیا گیا تھا کہ جب تک آپ مدینہ میں رہیں گے وہ آپ کی حفاظت کریں گے۔چونکہ اب آپ مدینہ سے باہر جنگ کے لئے جار ہے تھے اس لئے آپ کو یہ خیال گزرا کہ شاید انصار پر یہ گراں گزرے کہ کیوں انہیں مدینہ سے باہر جنگ کے لئے لے جایا جا رہا ہے جبکہ ان کی ذمہ داری صرف مدینہ کے اندرون حصہ تک محدود ہے اس لئے آپ نے مہاجرین کا جواب سن کر فرمایا کوئی اور بولے۔اس پر ایک اور صحابی اٹھے اور انہوں نے بھی جنگ کرنے کی تائید میں تقریر کی۔آپ نے فرمایا کوئی اور بولے۔انصار اس وقت تک اس لئے خاموش تھے کہ وہ سمجھتے تھے مہاجرین اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ وہ گفتگو کریں کیونکہ ان پر ہی کفار مکہ کی طرف سے مظالم ہوئے ہیں۔مگر جب رسول کریم ﷺ نے بار بار اپنی بات کو دُہرایا تو انصار سمجھ گئے کہ آپ کا روئے سخن ہماری طرف ہے۔ان لوگوں کا اخلاص اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ باوجود اس بات کے کہ ان کا معاہدہ یہی تھا کہ وہ مدینہ کے اندر رسول کریم ﷺ کی حفاظت کریں گے اور باوجود اس بات کے کہ خدا کے رسول معاہدہ کو تو ڑ نہیں کرتے۔اگر انصار اپنے اس معاہدہ پر اصرار کرتے تو ہرگز خدا اور اس کے رسول کا ان پر کوئی گناہ نہ ہوتا لیکن باوجود اس کے کہ بظاہر شرعی ذمہ داری ان پر عائد نہ ہوئی تھی ایک شخص ان میں سے