نظام وصیت

by Other Authors

Page 57 of 260

نظام وصیت — Page 57

57 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ مزار مسیح موعود اور تڑپا دینے والے خیالات جس دن صبح کے وقت چلنا تھا۔اس دن رات کے وقت ایک بجے میں اپنے بعد کام کے چلانے کے متعلق ہدایات لکھنے سے فارغ ہوا اور صبح عزیزم عبد السلام ولد حضرت خلیفہ اول کو جو بیمار تھے دیکھ کر اس آخری خوشی کو پورا کرنے کے لئے چلا گیا۔جو اس سفر سے پہلے میں قادیان میں حاصل کرنی چاہتا تھا۔یعنی آقائی و سیدی و راحتی و سروری و حبیبی مرادی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار مبارک پر دعا کرنے کے لئے ایک بے بس عاشق اپنے محبوب کے مزار پر عقیدت کے دو پھول چڑھانے اور اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں دعا کر دینے کے سوا اور کیا کرسکتا ہے۔سواس فرض کو ادا کرنے کرنے کے لئے میں وہاں گیا۔مگر آہ! وہ زیارت میرے لئے کیسی افسردہ کن تھی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مردے اس مٹی کی قبر میں نہیں ہوتے بلکہ ایک اور قبر میں رہتے ہیں۔مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس مٹی کی قبر سے بھی ان کو ایک تعلق رہتا ہے اور پھر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ انسانی دل اس قرب سے بھی جو اپنے پیارے کی قبر سے ہو۔ایک گہری لذت محسوس کرتا ہے۔پس یہ جدائی میرے لئے ایک تلخ پیالہ تھا اور ایسا تلخ کہ اس کی تلخی کو میرے سوا کوئی نہیں سمجھ سکتا۔میرے زندگی کی بہت بڑی خواہشات میں سے ہاں ان خواہشات میں سے جن کا خیال کر کے بھی میرے دل میں سرور پیدا ہو جاتا تھا۔ایک یہ خواہش تھی کہ جب میں مر جاؤں۔تو میرے بھائی جن کی محبت میں میں نے عمر بسر کی ہے اور جن کی خدمت میر اواحد شغل رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عین قدموں کے نیچے میرے جسم کو دفن کر دیں تا کہ اس مبارک وجود کے قرب کی برکت سے میرا مولا مجھ پر بھی رحم فرمادے ہاں شاید اس قرب کی وجہ سے وہ عقیدت کیش احمدی جو جذبہ محبت سے لبریز دل کو لے کر اس مزار پر حاضر ہو۔میری قبر بھی اس کو زبان حال سے یہ کہے کہ ع اے خانہ براند از چمن کچھ تو ادھر بھی اور وہ کوئی کلمہ خیر میرے حق میں بھی کہہ دے جس سے میرے رب کا فضل جوش میں آ کر میری کوتاہیوں پر سے چشم پوشی کرے اور مجھے بھی اپنے دامنِ رحمت میں چھپا لے۔آہ! اس کی غنامیرے دل کو