نظام وصیت — Page 56
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 56 نازل ہو رہی ہیں وہ نازل ہوتی چلی جائیں گی۔دیکھو صحابہؓ اس نکتہ کو سمجھتے تھے چنانچہ نماز اور دعا تو الگ رہی وہ اس مقام سے بھی برکت ڈھونڈتے تھے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پیشاب کیا ہو۔حضرت عبداللہ بن عمر جب بھی حج کے لئے جاتے تو ایک مقام پر وہ خاص طور پر تھوڑی دیر کے لئے قافلہ کو ٹھہراتے اور پیشاب کے لئے بیٹھ جاتے۔انہوں نے دو تین حج کئے تھے۔ایک صحابی کہتے ہیں میں نے ایک دفعہ دیکھا تو جہاں وہ پیشاب کے لئے بیٹھے تھے وہ جگہ بالکل خشک تھی۔میں نے ان سے کہا کہ آپ نے ہمارا اتنا حرج کیا۔اگر آپ کو پیشاب آیا نہیں تھا تو آپ نے قافلہ کو ٹھہرایا کیوں، آپ یہاں بیٹھے کس لئے ؟ وہ کہنے لگے یہ بات نہیں اصل بات یہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو میں نے دیکھا کہ اس مقام پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا تھا۔پس میں جب بھی یہاں سے گزرتا ہوں میں کہتا ہوں کہ موقع جانے نہ پائے اور خواہ مجھے پیشاب آیا ہو یا نہ آیا ہو میں یہاں تھوڑی دیر کے لئے برکت حاصل کرنے کے لئے بیٹھ جاتا ہوں۔تو صحابہ یہ سمجھتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر کام میں نقل ان کے لئے برکت کا موجب ہے اور در حقیقت یہ بات ہے بھی درست۔جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کام کئے وہاں برکتیں ہی برکتیں ہیں۔دیکھو، آپ لوگ ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام پیش کیا کرتے ہیں کہ: " بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے " حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جسم سے آپ کے کپڑے لگے اور وہ بابرکت ہو گئے۔پھر اگر کسی زمین پر کوئی مقدس انسان رہے تو وہ کیوں بابرکت نہیں ہوگی۔حقیقت یہ ہے کہ روحانی دنیا میں اس کی اتنی مثالیں موجود ہیں کہ یہ سوال ہر شخص کو خود ہی سمجھ لینا چاہئے تھا اور اس بارہ میں کسی سوال کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرنی چاہئے تھی۔(انوار العلوم جلد 23 صفحہ 118 تا 122 )