نظام وصیت — Page 30
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 30 کیا کروں گا۔یہ زمانہ ایسا ہے کہ نہایت اہم کاموں کی ضرورت پیش آرہی ہے جس کے لئے روپیہ کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔تقاریر جلسہ سالانہ 1926 ء۔انوار العلوم جلد 9 صفحہ 443 مالی حالت کو درست کرنے کی ایک صورت مالی حالت کو درست کرنے کی ایک صورت وہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الہام الہی سے مقررفرمائی ہے اور وہ وصیت ہے۔مجھے یہ معلوم کر کے تعجب ہوا کہ عورت مرد ملا کر ابھی تک دو ہزار نے بھی وصیت نہیں کی حالانکہ جماعت کی تعداد بہت زیادہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وصیت کو جز و ایمان قرار دیا ہے۔احباب کو اس کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔چند اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد 11 صفحہ 83 جو تھک گیا وہ ہمارا دوست نہیں برادران! مجھ سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے بعض دوست چندے دیتے دیتے تھک گئے ہیں میں ان دوستوں کی رائے کو بالکل غلط سمجھتا ہوں۔وہ جو تھک گیا وہ ہمارا دوست نہیں۔ہم چندہ دے کر خدا تعالیٰ پر احسان نہیں کرتے بلکہ خدا تعالیٰ ہم پر احسان کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی اولا د کو وصیت سے آزاد رکھا ہے۔اس لئے میں وصیت کرنا خلاف شریعت سمجھتا ہوں لیکن اس شکریہ میں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ احسان کیا ہے اوسطاً پانچواں حصہ اپنی آمد کا چندوں اور لہی کاموں میں خرچ کرتا ہوں بلکہ اس سے بھی زیادہ بلکہ میں تو گھر کے خرچ کے لئے جو قرض لیتا ہوں اس میں سے بھی چندہ ادا کرتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم اپنی ضرورتوں کیلئے قرض لیتے ہیں تو خدا تعالیٰ کیلئے قرض کیوں نہ لیں۔حق یہی ہے کہ اگر ہم مالی قربانی جو سب سے ادنی قربانی ہے پوری طرح نہیں کر سکتے تو دوسری قربانیاں جو اس سے زیادہ ہیں کب کر سکیں گے۔(مومنوں کیلئے قربانی کا وقت۔انوار العلوم جلد 12 صفحہ 306 )