نظام وصیت — Page 244
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 244 منعقد کئے ہیں۔اس کے لئے وہی طریقہ کار اختیار کیا تھا جو حضور انور نے بیان فرمایا تھا۔یہاں نیشنل لیول پر ہم ہدایات دیتے رہتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات اور خلفاء کی ہدایات پر مشتمل با قاعدہ ایک نصاب تیار کر کے جماعتوں میں بھجواتے ہیں اور پھر وہ وہاں پڑھ کر سناتے ہیں۔حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ وصیت کی ذمہ داریوں“ کے حوالہ سے ایک صفحہ تیار کر کے بطور یاد دہانی ہر موصی کو بھجوایا کریں۔موصیان کے اجلاس میں لجنہ موصیات کی شرکت کے حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ اگر لجنہ پردہ کے پیچھے ہیں تو پھر لجنہ بھی اس اجلاس میں بیٹھ سکتی ہیں۔سیکرٹری صاحب وصیت نے کہا کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا تھا کہ بعض موصیان اپنی اصل آمد پر چندہ وصیت ادا نہیں کرتے تو اس بارہ میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔اس سلسلہ میں دورہ جات کئے گئے اور 450 موصی احباب سے انفرادی رابطہ کیا گیا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے دولاکھ سے زیادہ وصولی ہوئی ہے اور چندہ بڑھا ہے اور ان کا معیار بھی بڑھا ہے۔اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ آپ نے رپورٹ لکھ کر بھیجی تھی کہ فلاں آدمی کا اتنا اضافہ ہوا۔پہلے وہ ہزار یورو دیتا تھا اور اب اس نے کہا ہے کہ وہ تیرہ سو یورو دے گا۔سوال یہ نہیں ہے کہ وہ 1300 یورو ادا کرتا ہے یا 1000 یورو ادا کرتا ہے۔سوال یہ ہے کہ جو اس کی اصل انکم ہے اس پر چندہ دینا ہے۔اگر وہ 1200 ، 1100 ،1500 پر دے رہا ہے تو اس بات پر خوش نہ ہو جائیں کہ اتنا اضافہ ہو گیا ہے۔اسے کہیں کہ جس پر بھی تم دو یہ سوچ کر دو کہ موصی کے لئے کوئی رعایت نہیں ہے۔چندہ عام دینے والے کے لئے تو رعایت ہے لیکن موصی کے لئے کوئی رعایت نہیں ہے۔اگر مالی حالات خراب ہیں تو وصیت منسوخ کر والو یا پھر چندہ عام ادا کرنے والے کے مالی حالات خراب ہیں تو باقاعدہ طریق کے مطابق لکھ کر رعایت لے لیں۔لیکن ایک موصی کے تقویٰ کا معیار ایسا ہونا چاہئے کہ اس کو بہر حال بغیر کسی رعایت کے صحیح وصیت ادا کرنی چاہئے۔حضور انو رایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ آپ نے پیسوں میں جو اضافہ کیا ہے بڑا اچھا کیا ہے۔لیکن یہ نہیں کہ صرف پیسے ہی اکٹھے کرنے ہیں۔میں نے پیسے اکٹھے کرنے کے لئے نہیں کہا تھا بلکہ میں نے تو کہا تھا کہ تقویٰ پیدا کریں کہ چندہ صحیح انکم پر دیں۔