نظام وصیت — Page 234
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 234 جاوید اقبال ناصر صاحب مبلغ کو سود لکھتے ہیں کہ ہماری جماعت میں ایک دوست رجب حاسانی ہیں، جو اب موصی بھی ہیں اور اس سلسلے میں سیکرٹری مال کی ذمہ داری ان کے پاس ہے۔ایک ہسپتال میں کام کرتے تھے اور کسی اچھی نوکری کی تلاش میں تھے۔کافی عرصہ تلاش کرنے کے باوجود کسی اچھی جگہ نوکری نہ مل رہی تھی۔انہوں نے وصیت کرنے کا ارادہ کیا اور وصیت فارم پر بھی نہ کیا بلکہ صرف چندہ وصیت ہی دینا شروع کیا تھا کہ فوراً ان کو شہر میں ان کی خواہش کے مطابق سروس مل گئی۔انہوں نے کئی بار اس کا ذکر کیا کہ یہ صرف وصیت کی برکت اور خلیفہ وقت کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ایک خاص بات جس کا انہوں نے ذکر کیا وہ یہ ہے کہ وصیت کرنے سے قبل تنخواہ لینے جب بنک جاتا تھا تو اکثر اکاونٹ خالی ہوتا تھا۔لیکن اب جب سے وصیت کی ہے کبھی بھی اس کا اکاؤنٹ خالی نہیں ہوتا۔پس یہ قربانیاں ہیں جو جماعت دے رہی ہے اور اس حقیقت کو سمجھ رہی ہے کہ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے سے ہی اللہ تعالیٰ کا قرب بھی حاصل ہوتا ہے اور دینی اور دنیاوی ترقیات بھی ملتی ہیں۔الفضل انٹر نیشنل 15 اگست 2014 ، صفحه 4 صف دوم کے انصار کو وصیت کے نظام میں سو فیصد شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہئے سالانہ اجتماع مجلس انصاراللہ یو کے 4 اکتوبر 2009ء) پھر ایک بات دین کی خاطر مالی قربانیوں کی ہے۔میں پہلے بھی اس طرف توجہ دلا چکا ہوں کہ انصار اللہ کی عمر میں ایک ایسا طبقہ بھی ہوتا ہے جو اپنے پیشہ ورانہ صلاحیتوں یا ہنر کے کمال کو پہنچ چکا ہوتا ہے۔اسی طرح اپنی آمدنیوں کے تنخواہوں کے اجرتوں کے جو Maximum سکیل ہوتے ہیں اُن کو حاصل کر رہا ہوتا ہے۔اس وجہ سے آپ کی آمدنیوں میں جو ترقی ہے اس میں دین کا حق بھی اپنی قربانی کے معیاروں کو بلند کرتے ہوئے ادا کریں۔ایک تو میں نے کہا تھا کہ صف دوم کے جو انصار ہیں وہ میں شامل ہونے کی کوشش کریں۔اگر صف دوم کے انصار نے اس طرف توجہ دی ہے اور ان کی اکثریت، بلکہ صف دوم کے