نظام وصیت — Page 166
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 166 لاتمِّمَ مَكَارِمَ الْاَخْلَاقِ (الشفاء - الباب الثانی ) میری بعثت کی ایک غرض یہ ہے کہ میں مکارم اخلاق کو اپنے پورے کمال تک پہنچا دوں جس سے بڑھ کر اور کوئی کمال ممکن نہیں۔عربی زبان میں اتمام کے یہ معنی ہیں۔تو نظامِ وصیت یہ مطالبہ کرتا ہے کہ مکارم اخلاق کے میدانوں میں موصیوں کی گرد کو بھی غیر موصی پہنچنے والے نہ ہوں۔ہر ایک سے پیار کرنے والے ہر ایک کو عزت سے پکارنے والے، جھگڑا نہ کرنے والے کا فرومومن سے ہمدردی اور خیر خواہی کرنے والے۔دنیا کی بھلائی کے لئے راتوں کو جاگ کر خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ جھک کر دعائیں کرنے والے۔غرض وہ سینکڑوں شعبے مکارم اخلاق کے جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے اور عملی زندگی میں جن کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا ان شعبوں میں غیر موصی سے کہیں آگے بڑھنا اس کا مطالبہ کرتا ہے۔اس کا مطالبہ کرتا ہے کہ حقوق العباد کی ادائیگی میں موصی پر کوئی دھبہ ایک سوئی کے Point کے برابر بھی نہ پڑے۔نظامِ وصیت یہ مطالبہ کرتا ہے کہ حقوق اللہ جسے کہا جاتا ہے چکر کھا کے وہ پھر حقوق العباد ہی بنتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ تو کسی کا محتاج نہیں بہر حال ایک ہماری اصطلاح ہے حقوق اللہ کی ادائیگی میں سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اتنی دور آگے نکل جائیں گے غیر موصی سے کہ غیر موصی کی نگاہ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکے گی۔یہ ہے ! اس کو بگاڑ کر اس عظیم احسان کی ناقدری نہ کرو جو عظیم احسان اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کے ذریعے نوع انسانی پر کیا۔جو منتظمین ہیں وہ بھی نہیں سمجھتے۔عجیب و غریب وصیتیں میرے پاس آ جاتی ہیں منظوری کے لئے۔مجھے غصے بھی آتا ہے۔غصے کو پیتا بھی ہوں۔مجھے دکھ بھی پہنچتا ہے۔اس دکھ کو میں سہتا بھی ہوں لیکن میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ جس غرض کے لئے خدا تعالیٰ کے پیارے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن سے بڑا کوئی نبی نہیں جن سے بڑا کوئی انسان نہیں۔جن سے بڑا کوئی محسن نہیں۔انہوں نے اس زمانہ میں اپنی روحانی قوت کے نتیجہ میں مہدی اور مسیح کے ذریعہ سے نوع انسانی پر احسان کرتے