نظام وصیت — Page 165
165 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ سوالاکھ روپیہ بن جاتا ہے۔تو ایک ہزار روپیہ مہر سوالاکھ وصیت کی ادائیگی میں تو روک نہیں بنا۔اسی طرح کسی کے متعلق کچھ اور اعتراض بھی پیدا ہوئے مجھے خیال آیا کہ میں وصیت کی وضاحت کر دوں۔اصل چیز ایک ہزار یا دس ہزار نہیں۔اصل چیز ہے اسلامی زندگی گزارنا اور بشاشت کے ساتھ خدا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے لئے ہر قسم کی جن میں ایک صرف مالی قربانی ہے۔ہر وقت قربانی دینے کے لئے تیار رہنا۔جس دوست نے یہ اعتراض کیا کہ آپ نے نئی شادی میں ایک ہزار روپے مہر رکھا تو وصیت کے اوپر اس کا برا اثر پڑ گیا ان کو میں نے جواب یہی دیا تھا کہ میں نے کسی بھک منگی سے شادی نہیں کی۔تو ایک تو ابھی انہوں نے وصیت نہیں کی ہوئی لیکن میں نے کہا ہے کہ وصیت کر دو۔تو شاید پہلی قسط جو وہ ادا کریں گی وہ ایک ہزار سے بہر حال بڑھی ہوئی ہوگی یعنی پورے مہر سے آگے نکل جائے گی اور اللہ تعالی زندگی دے اور توفیق دے ان کو اسی ہمت کے ساتھ مالی قربانی کرنے کی بھی تو لاکھ تک پہنچ جائے بشاشت سے دیں گی۔یہ جو شیطانی وسوسے دماغ میں آتے ہیں خدا تعالیٰ کی عطا کردہ جو فراست ہے مومن کو چاہیئے کہ آپ ہی حل کر لیا کرے۔ایک ایسا نظام جو اپنی عظمتوں کی وجہ سے مثالی بنتا تھا اسلام کی خدمت کے میدان میں اس کے اوپر بعض لوگوں کی غلطی کی وجہ سے دھبے پڑرہے ہیں اور جہاں تک اللہ تعالیٰ نے مجھے فراست اور ہمت دی۔میں کوشش کروں گا کہ ان دھبوں سے اسے صاف کیا جائے۔اس وقت بنیادی چیز میں جماعت کے سامنے یہ رکھنا چاہتا ہوں کہ کا ہر احمدی مرد اور عورت سے یہ مطالبہ ہے بلوغت کے بعد کہ وہ مالی میدان میں اس قدر قربانی کرنے والی ہو کہ جو غیر موصی مرد و زن جماعت احمدیہ کے ممبر ہیں ان سے کہیں آگے بڑھ جانے والے ہوں احمدی مردوزن سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ جہاں تک اوقات کی قربانی یا نفس کی قربانی ہے یعنی زندگی کے جو لحات ہیں ان کی قربانی ہے وہ غیر موصی سے زیادہ قربانی دینے والے ہوں، یہ مطالبہ کرتا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ اعلان فرمایا بعثت