نظام وصیت — Page 102
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 102 پیش آئی اور جیسا کہ اہل اللہ پر کبھی کبھی ایسی حالت گذرتی ہے۔اس وقت ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔تب ہم نے وضو کیا اور جنگل میں جا کر دعا کی اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام نازل ہوا کہ دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں۔“ اس کے بعد ہم واپس آئے تو بازار سے گزرے اور ڈاکخانہ والوں سے پوچھا کہ کیا ہمارے نام کوئی منی آرڈر آیا ہے یا نہیں۔انہوں نے ایک خط دیا۔جس میں لکھا تھا کہ پچاس روپے آپ کے نام بھجوا یا دیئے گئے ہیں۔چنانچہ اسی دن یا دوسرے دن وہ روپیہ ہمیں مل گیا۔غرض ایک زمانہ ایسا گذرا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پچاس روپوں کے لئے بھی فکر ہوتا تھا۔کہ وہ کہاں سے آئیں گے اور یا اب یہ حالت ہے کہ سندھ میں جو میری اور سلسلہ کی زمینیں ہیں ان پر تین ہزار روپیہ ماہوار تک تنخواہوں کا ہی دینا پڑتا ہے۔گویا کجا تو یہ حالت تھی کہ پندرہ سو روپیہ ماہوار کا خرچ ساری جماعت کے لئے بوجھ سمجھا جاتا تھا۔اور پچاس روپیہ کی ضرورت کو اتنا شدید سمجھا جاتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے لئے خاص طور پر علیحدگی میں دعا کرنا ضروری سمجھا اور کجا یہ حالت ہے کہ اس شخص کا بیٹا سینکڑوں روپیہ ماہوار اپنے کارکنوں کو تنخواہیں دیتا ہے۔اور انجمن کے افسروں کو ملا کر وہ رقم ہزاروں روپیہ کی بن جاتی ہے اور ربوہ کے دفتروں کو ملا کر کوئی نوے ہزار ماہوار کی رقم بن جاتی ہے۔یہ کتنا عظیم الشان فرق ہے جو ہر شخص کو دکھائی دے سکتا ہے۔مگر ابھی کیا ہے ابھی تو صرف ہزاروں روپیہ خرچ ہورہا ہے۔پھر کوئی وقت ایسا آئے گا کہ صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کا تین تین ارب کی بجٹ ہوگا۔پھر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان کا تین تین کھرب کا بجٹ ہوگا۔یعنی صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کا سالانہ بجٹ ۷۲ کھرب کا ہوگا۔پھر یہ بجٹ پدم پر جا پہنچے گا۔کیونکہ دنیا کی ساری دولت سہو کتابت۔لفظ ” کا درست معلوم ہوتا ہے