نظام نو — Page 84
ادائیگی کے لئے زکوۃ اور صدقہ کا دیا ہے یعنی جسقدر جائیداد کسی انسان کے پاس سونے اور چاندی کے سکوں یا اموال تجارت کی قسم سے ہو اور اس پر ایک سال گذر چکا ہو تو ضروری ہے کہ حکومت اس سے اڑھائی فیصدی سالا نہ ٹیکس وصول کر کے خزانہ شاہی میں داخل کرے اور اسے ملک کے غرباء پر خرچ کیا جائے۔یہ ٹیکس جسے زکوۃ کہا جاتا ہے صرف آمد پر نہیں بلکہ سرمایہ اور نفع سب کو ملا کر اس پر لگایا جاتا ہے اور اس طرح اڑھائی فیصدی بعض دفعہ نفع کا پچاس فی صدی بن جاتا ہے اور بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ۔اس حکم کے مطابق جس شخص کے گھر میں سو روپیہ جمع ہوگا اُسے سال گزرنے کے بعد اڑھائی روپیہ زکوۃ دینی پڑے گی جس پر لازماً اُسے فکر پیدا ہوگا کہ اگر یہ روپیہ اسی طرح جمع رہا تو تھوڑے ہی عرصہ میں تمام روپیہ ٹیکس کی ادائیگی میں خرچ ہو جائیگا چنانچہ وہ فور اردو پہیہ کو تجارت پر لگا دیگا تا کہ یہ کمی پوری ہو جائے اور جب وہ روپیہ کو تجارت پر لگائیگا تو روپیہ چکر کھانے لگے گا اور اسطرح علاوہ اس کے کہ اس کے روپیہ میں سے اڑھائی فیصدی غرباء کو ملے گا روپیہ کے بند رکھنے سے جو نقصان ہوسکتا تھا وہ بھی ملک اور قوم کو نہیں پہنچے گا۔آجکل خصوصیت سے لوگوں میں یہ مرض پیدا ہو رہا ہے کہ وہ سونا اور چاندی کو جمع کر کے رکھ رہے ہیں۔غرباء کو کئی قسم کی ضرورتیں ہوتی ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ سونا آجکل گراں ہے وہ اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کا یہی طریق سوچتے ہیں کہ زیور فروخت کر دیا جائے چنانچہ کوئی انگوٹھی فروخت کر دیتا ہے، کوئی کان کی بالیاں فروخت کر دیتا ہے، کوئی گلو بند فروخت کر دیتا ہے، کوئی پازیب فروخت کر دیتا ہے مگر جانتے ہو یہ سب سونا اور چاندی کہاں جمع ہورہا ہے یہ سب بنیوں کے گھر میں جا رہا ہے۔اور بعض لوگ تو اس ڈر کے مارے سونا چاندی جمع کر رہے ہیں کہ اگر جاپان آ گیا تو نوٹ ناکارہ ہو جائیں گے وہ یہ نہیں جانتے کہ جاپان آیا تو سب سے پہلے وہ سونے اور چاندی کو ہی ٹوٹے گا مگر وہ سمجھتے ہیں سونا تو اُن کے گھروں میں ہی رہیگا اور جن کے پاس نوٹ ہونگے اُن کے پاس کچھ نہیں رہیگا۔اسی وجہ سے سونا روز بروز مہنگا ہوتا چلا جاتا ہے۔چالیس روپیہ سے اس نے بڑھنا شروع کیا تھا اور ستر روپیہ تک پہنچ گیا ہے اور میں 84