نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 129

نظام نو — Page 76

دوسروں کے اموال کو اُنکی خبر گیری کرنے کے بہانہ سے اپنے قبضہ میں کر لینے کا علاج اسلام میں دوسرا علاج اسلام نے یہ کیا کہ دنیا میں یہ اعلان کر دیا کہ لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا ۲۷ مَتَّعْنَا بِةٍ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ فرماتا ہے تم دوسروں کے اموال اس بہانہ سے نہ لو کہ ہم اُنکی خبر گیری کرینگے لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِةٍ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ جو کچھ ہم نے لوگوں کو مال دیا ہے اس کی طرف آنکھیں اٹھا اٹھا کر نہ دیکھو وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمُ اور یہ نہ کہو کہ میں اُن کی حالت کو دیکھ کر بڑائم ہوتا ہے فرماتا ہے یہ تم تم اپنے لئے ہی رہنے دو۔وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ تمہاری اپنی رعایا موجود ہے تم اس کی تمدنی ترقی کے لئے جتنی کوششیں چاہو کرو تمہیں اس سے کوئی منع نہیں کرتا۔ہاں اگر تم یہ کہو کہ ہمیں دوسروں کا غم بے چین کئے ہوئے ہے اور ان کی ترقی کے لئے ہم ان پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تو ہم اس سے متفق نہیں۔تم اپنے گھر بیٹھو اور انہیں اپنے گھر میں رہنے دو۔آجکل تمام کالونیزیشن کی بنیا د اسی غلط دعویٰ پر ہے کہ ہم انکی بھلائی کے لئے اُن کے ملک پر قبضہ کئے ہوئے ہیں اور یہی بہانہ ہر ملک پر قبضہ جماتے وقت کیا جاتا ہے مگر اس دعویٰ کی حقیقت تھوڑے عرصہ کے بعد ہی کھل جاتی ہے جب اس ملک کی تمام دولت اپنے قبضہ میں لے لی جاتی ہے اور وہاں کے لوگوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ایسٹ افریقہ میں چلے جاؤ وہاں یورپین گورنمنٹ ہے مگر حالت یہ ہے کہ وہاں انگریز تو بڑے بڑے مالدار ہیں مگر خود وہاں کے باشندے غربت کی حالت میں ہیں اور اُنکے خادم بن کر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔پس فرماتا ہے کہ اپنے آدمیوں کی بھلائی کی فکر کرو دوسروں کو اُن کے حال پر چھوڑ دووہ غریب جس طرح ہوگا اپنی خبر گیری کر لیں گے۔اگر کہا جائے کہ کیا اُنکی مدد نہ کی جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام یہ نہیں کہتا کہ دوسروں کی خدمت مت کرو وہ جو کچھ کہتا ہے وہ یہ ہے کہ لالچ اور ذاتی فائدہ کے لئے خبر گیری مت کرو۔اب خدمت تو 76