نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 129

نظام نو — Page 32

ہو جس کا مرکز جرمن سے باہر ہو اسی بنا پر جرمنی نے رومن کیتھولک اور یہودی مذہب کو مٹانا شروع کیا ہے۔اٹلی والوں نے ایسا نہیں کیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ روم ہی رومن کیتھولک مذہب کا مرکز تھا اور اس وجہ سے فاشسٹ پارٹی نے اس مذہب کی اتنی مخالفت نہیں کی مگر اس کے اقتدار کو کم کرنے کی ضرور کوشش کی تاکہ ملک کی مذہبی جماعت سیاسی جماعت کے کام میں رخنہ پیدا نہ کرے بعد میں ہٹلر کے اثر کے ماتحت اسرائیلیوں کی مخالفت بھی انہوں نے شروع کر دی کیونکہ انہیں بتایا گیا کہ ایک طرف یہ قوم بالشویک اثر کو پھیلاتی ہے اور دوسری طرف برسر اقتدارحکومتوں میں خاص نفوذ رکھنے کی وجہ سے اُن کے اثر کو مضبوط رکھتی ہے۔سپین نے بالشویک اور موجودہ برسر اقتدار اقوام کی مخالفت تو کرنی شروع کی لیکن یہودیوں کی ابھی اتنی مخالفت شروع نہیں کی جتنی جرمنی اور اٹلی میں ہوتی ہے۔بالشوزم کے خلاف پروپیگنڈے کا چھٹا ذریعہ یعنی آرین نسل کے لئے استحقاق حکومت کے خیال کی اشاعت پھر ایک اور نظریہ ہٹلر اور مسولینی نے پبلک کو جوش دلانے اور انکو اپنے ساتھ ملانے کے لئے یہ پھیلایا کہ دنیا میں ارتقاء کے مسئلہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں سب سے بہتر چیز ہی آگے بڑھتی ہے اور اس کے بڑھنے سے ہی دنیا کا ہرا گلا قدم ترقی کی طرف جاتا ہے۔اسی نظریہ کے ماتحت اس نے کہا کہ چونکہ آرین نسل سب قوموں سے زیادہ قابل ہے اس لئے جرمن نسل کو خصوصاً اور باقی آرین نسلوں کو عموماً آگے لانا چاہئے۔اس موقعہ پر میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ہٹلر اس بات میں پنڈت دیا نند کا شاگرد ہے کیونکہ سب سے پہلے پنڈت دیانند صاحب دیانند - نے ہی یہ خیال پھیلایا کہ آرین نسل سب نسلوں سے اعلیٰ ہے بہر حال جرمن چونکہ آرین نسل میں سے ہیں اور آرین نسل ہٹلر کے اصول کے مطابق سب سے اچھی ہے اس لئے ہٹلر نے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا کیا کہ جو اعلیٰ نسل ہوا سے ہی حکومت ملنی چاہئے۔وہ کہتا ہے دیکھو! لوگ 32