نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 129

نظام نو — Page 115

جو کام ہونا تھا وہ ہو چکا اب یورپ کے مد بر صرف لکیریں پیٹ رہے ہیں۔اسلام اور احمدیت کا نظام تو وہ ہے جس کی بنیاد جبر پر نہیں بلکہ محبت اور پیار پر ہے۔اس میں انسانی حریت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے اس میں افراد کی دماغی ترقی کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے اور اس میں انفرادیت اور عائکیت جیسے لطیف جذبات کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔وصیتی اموال کے خرچ کرنے کے مختلف مواقع میں بتا چکا ہوں کہ وصیت کے متعلق یہ خیال کرنا غلط ہے کہ اس کا روپیہ صرف تبلیغ اسلام پر خرچ کیا جا سکتا ہے’الوصية‘ کے الفاظ صاف بتارہے ہیں کہ اس روپیہ سے اور کئی مقاصد کو بھی پورا کیا جائے گا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ہر ایک امر جو مصالح اشاعت اسلام میں داخل ہے جس کی اب تفصیل کرنا قبل از وقت ہے وہ تمام اموران اموال سے انجام پذیر ہونگے یعنی آئیندہ زمانہ میں اشاعت اسلام کی ایسی مصلحتیں ظاہر ہوں گی یعنی اسلام کو عملی جامہ پہنا کر اس کی خوبیوں کے اظہار کے مواقع ایسے نکلیں گے کہ ان پر وصیت کے روپیہ کو خرچ کرنا جائز ہی نہیں بلکہ ضروری ہوگا۔پھر یتیموں اور مسکینوں“ کے الفاظ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے استعمال فرمائے ہیں اور بتایا ہے کہ اس روپیہ پر محتاجوں کا حق ہے۔پس در حقیقت ان الفاظ میں اسی نظام کی طرف اشارہ ہے جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے کہ ہر فرد بشر کے لئے کھانا مہیا کیا جائے ، ہر فرد بشر کے لئے کپڑا مہیا کیا جائے ، ہر فرد بشر کے لئے مکان مہیا کیا جائے ، ہر فرد بشر کے لئے تعلیم اور علاج کا سامان مہیا کیا جائے اور یہ کام ٹیکسوں سے نہیں ہوسکتا اسی طرح ہو سکتا ہے کہ جائیداد میں لی جائیں اور اس ضرورت پر خرچ کی جائیں۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شور با تمہاری حیثیت ہی کیا ہے کہ تم ایسے دعوے کرو اور اس قسم کی موہوم امیدوں کو جامعہ عمل پہنا سکو مگر یہ شبہ بھی درست نہیں اس لئے کہ جب ہم یہ بات پیش کرتے ہیں تو اس لئے پیش کرتے ہیں کہ ہم اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں 115