نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 129

نظام نو — Page 83

تیسر احکم یعنی سود کی ممانعت تیسرے اسلام سود کی ممانعت کرتا ہے۔سود بھی ایک ایسی چیز ہے جو روپیہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے اس کے ذریعہ سے وہ تاجر جو پہلے سے اپنی ساکھ بٹھا چکے ہوتے ہیں اور جن کے پاس ایک وقت میں کوئی سرمایہ نہیں ہوتا۔جس قدر روپیہ کی اُن کو ضرورت ہو آسانی سے بنکوں سے لے لیتے ہیں یا ایک شخص معمولی سرمایہ والا ہوتا ہے مگر اس کا دماغ نہایت اعلیٰ ہوتا ہے وہ کسی بنک کے سیکریٹری یا پریذیڈنٹ سے دوستی پیدا کر کے اس سے لاکھ دو لاکھ روپیہ لے لیتا ہے اور تھوڑے عرصہ میں ہی دو لاکھ سے دس لاکھ بنا لیتا ہے اور پھر چند سالوں کے اندر اندر وہ کروڑ پتی ہو جاتا ہے۔اس سے بھی دنیا کو بہت بڑا نقصان پہنچتا ہے ہمارے ملک کے زمیندار خوب جانتے ہیں کہ اُن کا کس قدر روپیہ بنوں کے پاس جاتا ہے اگر سود کے بغیر اُن کے گزارہ کی کوئی صورت ہو جاتی تو ہر زمیندار خاندان کی مالی حالت آج سے بدر جہا بہتر ہوتی مگر سود کی بدولت اگر ایک زمیندار دو ہزار روپیہ کسی بننے سے قرض لیتا ہے تو چند سالوں میں وہ بعض دفعہ دس دس ہزار روپیہ سود کا دے دیتا ہے مگر ابھی دو ہزار روپیہ جو اس نے قرض لیا تھا وہ بدستور موجود ہوتا ہے۔پس سود ایک بہت بڑی لعنت ہے جو بنی نوع انسان کے سروں پر مسلط ہے یہ ایک جونک ہے جو غریبوں کا خون چوستی ہے اگر دنیا امن کا سانس لینا چاہتی ہے تو اسکا طریق یہی ہے کہ دنیا سے سود کو مٹا دیا جائے اور اسطرح دولت کو محدود ہاتھوں میں جمع نہ ہونے دیا جائے۔چوتھا حکم یعنی زکوۃ اور صدقات کا دینا اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ بیشک اسلام ایک طرف تو روپیہ کسی کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتا بلکہ اُسے تقسیم کر دیتا ہے اور دوسری طرف روپیہ جمع کرنے سے منع کر رہا ہے مگر اس سے غربت کا علاج تو نہیں ہو جاتا۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلام نے ایک چوتھا حکم غرباء کے حقوق کی 83