نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 129

نظام نو — Page 64

گیا ہو اُسی وقت آزاد ہو جائے گا۔حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے اور آپ نے دیکھا کہ ایک صحابی کسی غلام کو مار رہے ہیں یہ صحابی خود بیان کرتے ہیں کہ میں اسی حالت میں تھا کہ میں نے اپنے پیچھے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ آواز سنی کہ تم کیا کرتے ہو یہ جاہلیت کا فعل ہے۔آجکل تو لوگ اپنے نوکروں کو بھی مارلیتے ہیں اور اسے کوئی معیوب بات نہیں سمجھتے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک غلام کے مارے جانے پر اُس صحابی کو ڈانٹا اور فرمایا تم کیا کرتے ہو جس قدر تمہیں اس غلام پر مقدرت حاصل ہے اُس سے کہیں زیادہ خدا تعالیٰ کو م پر مقدرت حاصل ہے۔وہ صحابی کہتے ہیں میں یہ آواز سنکر کانپ گیا اور میں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ہمیں اسے آزاد کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا اگرتم اسے آزادنہ کرتے تو جہنم میں جاتے۔" اسی طرح ایک اور صحابی کہتے ہیں ہم سات بھائی تھے اور ہمارے پاس صرف ایک لونڈی تھی ایک دفعہ ہم میں سے سب سے چھوٹے بھائی نے کسی قصور پر اُسے تھپڑ مار دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بر پہنچی تو آپ نے فرمایا اسے تھپڑ مارنے کا جرمانہ صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ اسے آزاد کر دو۔چنانچہ انہوں نے اُسے آزاد کر دیا۔گویا کوئی سخت مار پیٹ نہیں ایک تھپڑ بھی کسی غلام یا لونڈی کو مارنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نا پسند تھا۔اور آپ اس کا کفارہ صرف ایک ہی چیز بتاتے تھے کہ اُسے آزاد کر دیا جائے۔آجکل تو مار مار کر جسم پر نشان ڈال دیتے ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ سونٹا نہیں اگر تم تھپڑ بھی مار بیٹھتے ہو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تم غلام رکھنے کے قابل نہیں اور تم نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تم اس بات کے اہل نہیں کہ تمہارے ماتحت کسی کو رکھا جا سکے تم اسے فورا آزاد کر دو۔شادی کے قابل جنگی قیدیوں کی شادی کر دینے کے متعلق اسلامی ہدایت پھر فرماتا ہے اگر وہ شادی کے قابل ہوں اور جوان ہوں تو تم اُن کی شادی کر دو کیوں کہ نہ 64