نظام نو — Page 37
یہ مت سمجھو کہ باپ کے خواص بیٹے میں منتقل نہیں ہو سکتے کیونکہ تجر بہ بتا تا ہے کہ جولوگ اچھے حساب دان ہوں اُن کی اولاد میں عام طور پر اچھے حساب دان پیدا ہوتے ہیں۔اسی طرح جو شخص جس فن کا ماہر ہو وہ فن بالعموم ورثہ کے طور پر اسکی اولاد میں منتقل ہو جاتا ہے۔اسی وجہ سے بعض خاندان اور بعض اقوام خاص خاص علوم اور خاص خاص فنون میں ماہر سبھی جاتی ہیں۔مثلاً اٹلی میں اچھے مصوّر اور اچھا با جا بجانے والے پائے جاتے ہیں، کشمیری کھانا پکانے کا فن اور خوشخطی کا فن خوب جانتے ہیں، یہی حال بعض اور قوموں کا ہے یہ چیز نسلی طور پر بھی ترقی کرتی ہے۔چنانچہ جو شخص بہادر ہو اس کا بیٹا بالعموم بہادر ہی ہوتا ہے پنجابی میں اسے تخم تاثیر کہتے ہیں۔اور سائنس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے اخلاق کے ذرات خواہ وہ اچھے ہوں یا بُرے نسل میں منتقل ہوتے رہتے ہیں جس قسم کے اخلاق کسی انسان میں پائے جاتے ہیں اسی قسم کے ذرے اس کی نسل میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔شجاعت صداقت، عفت ، علم سے شغف یا اسی قسم کے اور اخلاق نسلوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ایسے ذرات کبھی دوسری پشت میں کبھی چوتھی پشت میں اور کبھی آٹھویں یا دسویں پشت میں ظاہر ہو جاتے ہیں حالانکہ وہ ذرات اُس کے کسی پڑدادا بلکہ نکٹر دادا میں پائے جاتے تھے۔پنجابیوں نے اسی سے تخم تاثیر کا اصل نکالا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صحبت کا اثر بھی بہت بڑا ہوتا ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ نسلاً بعد نسل بعض اخلاق وصفات منتقل ہوتی چلی جاتی ہیں مگر یہ چیز قدرتی طور پر ان قوموں میں بہت کم ہو جائیگی جن پر بالشویک تحریک کا اثر ہو کیونکہ ترقی کے لئے وسعتِ خیال کے مادہ کا ہونا اور کسی محترک کا ہونا ضروری ہوتا ہے اور اس تحریک میں اس محترک کو بہت کمزور کر دیا گیا ہے۔کمیونزم کا دوسرا نقص یعنی جبر و اکراہ اور اُسکا نتیجہ دوسرا نقص اس تحریک میں یہ ہے کہ جبر کا دروازہ کھول کر فساد کو جاری کر دیا گیا ہے۔اگر اس تحریک کے بانی یہ کرتے کہ آہستگی سے اُمراء کو عادی بنا کر اُن سے دولت لے لیتے تو اس 37