نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 129

نظام نو — Page 24

اس لئے ہم حکم دیتے ہیں کہ اس کے علاوہ اور کوئی فصل اس موسم کی وہاں نہ ہوئی جائے۔اگر کوئی کہے کہ پھر میں کھاؤ نگا کہاں سے؟ تو وہ کہہ دیتے ہیں روٹی کپڑا ہم دیں گے تمہیں اس کا کیا فکر ہے تمہیں فصل وہی بونی پڑے گی جس کا ہم تمہیں حکم دیتے ہیں۔اس طرح زمیندار کی حیثیت وہاں ایک مزدور کی سی ہوگئی ہے۔پانچویں اصول کا نتیجہ یعنی مذہبی نظام میں دخل پانچویں اصول کے مطابق انہوں نے مذہبی نظام میں دخل دیا اور پادریوں وغیرہ کو بغیر ہاتھ کی مزدوری کے روزی کا مستحق قرار نہ دیا۔انہوں نے کہا کہ جب پادری کوئی ہاتھ کا کام نہیں کرتے تو یہ نکتے ہوئے اور سکتے لوگوں کو روزی نہیں دی جاسکتی پس وہ انہیں مجبور کر کے یا تو اور کاموں پر لگاتے ہیں اور یا پادری وغیرہ تھوڑا سا وقت عبادات میں گزار لیتے ہیں اور باقی وقت کسی کام میں بسر کر دیتے ہیں۔دہریت پیدا کرنے کی تدبیر اسی مذہبی دشمنی کے سلسلہ میں انہوں نے ایک اور نئی تجویز نکالی اور مذہب کے متعلق انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ مذہب انفرادی آزادی کا نتیجہ ہونا چاہئے۔ماں باپ اور بزرگوں کو بچپن میں مذہبی تعلیم دینے کا کوئی حق نہیں تعلیم گلی طور پر حکومت کے ہاتھ میں ہونی چاہئے۔وہ کہتے ہیں دیکھو! بچوں پر یہ کیسا ظلم کیا جاتا ہے کہ بچپن میں ہی اُن کے دلوں پر مذہب کا اثر ڈالا جاتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو مسلمان ہوتے ہیں اُن کے بچے مسلمان بن جاتے ہیں، جو ہندو ہوتے ہیں اُن کے بچے ہندو بن جاتے ہیں اور جو پارسی ہوتے ہیں اُن کے بچے پارسی بن جاتے ہیں۔ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے بلکہ بچوں کو ہر قسم کے مذہبی اثرات سے آزا درکھنا چاہیئے۔جب بچہ جوان ہو جائے تو وہ جو چاہے مذہب اختیار کرلے جوانی سے پہلے ہی زبردستی اس کے دل پر اپنے مذہب کا 24