نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 129

نظام نو — Page 25

اثر ڈالنا صریح ظلم ہے چنانچہ اس اصل کا نتیجہ مذہب کے حق میں زہر نکلا۔وہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو ان کے ماں باپ سے جدا کر لیتے ہیں اور اپنے سکولوں میں تعلیم دلاتے ہیں جہاں مذہب کا نام تک بچہ کے کانوں میں نہیں پڑتا۔جب وہ اٹھارہ بیس سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے اور پکا دہر یہ بن جاتا ہے تو کہتے ہیں اب یہ جوان ہو گیا ہے اور اب اسکے سمجھنے کا زمانہ آ گیا ہے اب یہ جو چاہے مذہب اختیار کر لے۔حالانکہ اُس وقت اُس نے کیا سمجھنا ہے اُسوقت تو دہریت اُس کی رگ رگ میں سرایت کر چکی ہوتی ہے۔غرض وہ کہتے ہیں ہم بچوں پر ظلم نہیں کرتے بلکہ اُن کی سختی صاف رکھتے ہیں تاکہ بعد میں اس پر جو نقش چاہیں ثبت کر لیں حالانکہ اس رنگ میں دل کی سختی صاف رکھنے کے معنے سوائے دہریت کے اور کچھ نہیں۔جب وہ اٹھارہ بیس سال تک اپنے مطلب کی باتیں اُن کے کانوں میں ڈالتے رہتے ہیں تو جوان ہونے پر اُن کا یہ کہنا کہ ہم نے ان کے دل کی تختی بالکل صاف رکھی تھی صریح جھوٹ ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ اسطرح دل کی تختی صاف نہیں رکھتے بلکہ انہیں دہریت کے گڑھے میں گرا دیتے ہیں پس اس اصل نے آئندہ نسلوں کو بالکل دہر یہ بنا دیا ہے۔چھٹے اصول کا نتیجہ یعنی غیر ممالک میں اپنے خیالات کا پروپیگنڈا چھٹے اصول کے مطابق انہوں نے اپنے ملک سے باہر دوسرے ممالک میں جا کر اپنے خیالات پھیلانے اور ریشہ دوانیاں کرنی شروع کر دیں۔چونکہ انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہمیشہ اپنے اصول کے لئے حملہ کا پہلو اختیار کرنا چاہئے دفاع کا نہیں اس لئے انہوں نے اپنے ایجنٹ جرمنی اور جاپان اور اٹلی وغیرہ میں بھجوانے شروع کر دیئے اور بیرونی ممالک میں اُن کا نام کمیونسٹ پڑا۔پنجاب میں بھی کمیونسٹ پائے جاتے ہیں، ہندوستان کے باقی صوبہ جات مثلاً بہار وغیرہ میں بھی ہیں۔اس طرح مارکس (بنی اسرائیلی النسل المانوي المولد )کے اصول کی حکومت روس پر ہوگئی اور یہ تحریک اس رنگ میں جاری ہوگئی کہ اسکے نتیجہ میں ہر شخص کو 25